
امراوتی، 17 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر کے امراوتی میں ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک بڑے جرم کے مرکزی ملزم ایان احمد تنویر احمد کی سالگرہ کی پارٹی میں بعض پولیس اہلکاروں کی موجودگی کا انکشاف ہونے کے بعد پولیس محکمہ میں زبردست کھلبلی مچ گئی ہے۔ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد فوری طور پر جانچ کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔پولیس سپرنٹنڈنٹ وشال آنند نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے چھ اہلکاروں کو فوری طور پر ہٹا کر کنٹرول روم سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی جانچ میں ان اہلکاروں میں سے کچھ کے ملزم کی سالگرہ پارٹی میں شریک ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سنگین جرم میں ملوث ملزم کے ساتھ پولیس اہلکاروں کے تعلقات پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور اس معاملے کی مکمل اور گہرائی سے جانچ کی جائے گی۔ اس بات کی بھی تحقیق ہوگی کہ ان اہلکاروں کا ملزم سے کیا تعلق تھا اور وہ پارٹی میں کیوں شریک ہوئے۔اس واقعے کے بعد پولیس محکمہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور غیر جانبدارانہ تحقیقات پر بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ حکام نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کے اشارے دیے ہیں۔وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم نے “باس” لکھا ہوا ٹی شرٹ پہن کر آتش بازی کے ساتھ اپنی سالگرہ منائی، جبکہ موقع پر موجود پولیس اہلکار اسے مبارکباد دیتے ہوئے کیک کھلا رہے ہیں، جس کے بعد عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جس دن ملزم نے عوامی مقام پر سالگرہ منائی، اس وقت پولیس نے کارروائی کیوں نہیں کی اور اس کے بجائے اس کے ساتھ شرکت کیوں کی۔ پہلے ہی پولیس پر لاپروائی کے الزامات لگ رہے تھے، اور اب اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے