علی گڑھ پولیس کی بڑی کامیابی: شاطر چور گینگ بے نقاب، لاکھوں کے زیورات برآمد
علی گڑھ, 16 اپریل (ہ س)ضلع علی گڑھ میں تھانہ کوارسی اور تھانہ مہوا کھیڑا پولیس کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے دو شاطر چوروں کو گرفتار کر کے چوری کی کئی وارداتوں کا پردہ فاش کیا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے
پریس کانفرنس کرتے ہوئے


علی گڑھ, 16 اپریل (ہ س)ضلع علی گڑھ میں تھانہ کوارسی اور تھانہ مہوا کھیڑا پولیس کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے دو شاطر چوروں کو گرفتار کر کے چوری کی کئی وارداتوں کا پردہ فاش کیا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے تقریباً 10 لاکھ روپے مالیت کے سونے اور چاندی کے زیورات اور 60 ہزار روپے نقد برآمد ہوئے ہیں۔ یہ ملزمان دن دہاڑے گھروں میں داخل ہو کر چوری کی وارداتوں کو انجام دیتے تھے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔واقعہ کا انکشاف اس وقت ہوا جب 2 اپریل سے 5 اپریل 2026 کے درمیان تھانہ کوارسی علاقے میں ایک مکان کا تالا توڑ کر چوری کی واردات پیش آئی۔ متاثرہ شخص کی تحریر کی بنیاد پر مقدمہ درج کر کے پولیس ٹیم نے تفتیش شروع کی۔ مخبر کی اطلاع اور سرویلنس کی مدد سے 15 اپریل 2026 کو پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

گرفتار ملزمان کی شناخت سمیر عرف سادو اور احسان عرف فیضان کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دونوں کا مجرمانہ ریکارڈ رہا ہے اور ان کے خلاف پہلے بھی کئی مقدمات درج ہیں۔

برآمد شدہ سامان میں سونے کی چینیں، انگوٹھیاں، جھمکے، پائل اور بچھیا سمیت دیگر زیورات شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق تمام برآمد شدہ سامان مختلف چوری کی وارداتوں سے متعلق ہے۔

اس کامیابی میں تھانہ کوارسی اور مہوا کھیڑا پولیس کی مشترکہ ٹیم کا اہم کردار رہا۔ پولیس نے دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

ایس پی سٹی علی گڑھ، ادیتیہ بنسل نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پولیس ٹیم نے پیشہ ورانہ مہارت اور جدید سرویلنس کی مدد سے اس گینگ کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں جرائم پر قابو پانے کے لیے ایسی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی اور کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔

علی گڑھ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں، تاکہ جرائم پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جا سکے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande