ایل پی جی، پی این جی کی 100فیصد فراہمی کو یقینی بنایا گیا: سجاتا شرما
نئی دہلی، 15 اپریل (ہ س): مغربی ایشیا میں جاری بحران کی وجہ سے توانائی کی رکاوٹوں کے درمیان، مرکزی حکومت نے بدھ کو کہا کہ اس نے گھریلو صارفین کو پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اورلیکوڈ پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی 100 فیصد فراہمی کو یقینی بنایا ہے، ان ک
گیس


نئی دہلی، 15 اپریل (ہ س): مغربی ایشیا میں جاری بحران کی وجہ سے توانائی کی رکاوٹوں کے درمیان، مرکزی حکومت نے بدھ کو کہا کہ اس نے گھریلو صارفین کو پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اورلیکوڈ پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی 100 فیصد فراہمی کو یقینی بنایا ہے، ان کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے پٹرول پمپوں میں ایندھن کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔

سجاتا شرما، جوائنٹ سکریٹری (مارکیٹنگ اور آئل ریفائنری)، پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ایک بین وزارتی پریس کانفرنس میں کہا کہ توانائی کے منظر نامے کو مستحکم کرنے اور ضروری خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے کئی موثر اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ مغربی ایشیا کے بحران نے ہندوستان کی توانائی کی فراہمی کو متاثر کیا، لیکن حکومت ہند نے بروقت اقدامات کے ذریعے بلاتعطل گھریلو فراہمی کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو پی این جی اور ایل پی جی صارفین کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے اور سپلائی کا 100 فیصد تسلسل برقرار رکھا گیا ہے۔

شرما نے کہا کہ نقل و حمل کے لیے سی این جی کی سپلائی بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ گھریلو ریفائنریوں میں ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔ بکنگ کا وقفہ شہری علاقوں میں 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک بڑھا دیا گیا ہے۔ کمرشل ایل پی جی کی سپلائی 70 فیصد پر بحال کر دی گئی ہے، اسپتالوں، تعلیمی اداروں، اور کلیدی شعبوں جیسے فارماسیوٹیکل،ا سٹیل، آٹوموبائل، بیج اور زراعت کو ترجیح دی گئی ہے۔

مزید برآں، 5 کلو گرام کے سلنڈروں کی دستیابی کو دوگنا کر دیا گیا ہے، اور متبادل ایندھن جیسے مٹی کا تیل اور کوئلہ دستیاب کرایا گیا ہے۔ ایل پی جی کی سپلائی مستحکم ہے، کوئی ڈسٹری بیوٹرز کمی کی اطلاع نہیں دے رہا ہے۔ آن لائن بکنگ 98فیصد پر مضبوط ہے، اور 93فیصد ڈیلیوری تصدیق پر مبنی نظام کے ذریعے مکمل کی جا رہی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ وزیر اعظم کو کل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فون آیا۔ دونوں رہنماو¿ں نے ہندوستان-امریکہ دو طرفہ تعاون میں ہونے والی اہم پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ دونوں فریق تعاون کے تمام شعبوں میں ایک جامع عالمی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ دونوں رہنماو¿ں نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

مکیش منگل، ایڈیشنل سکریٹری، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے بتایا کہ خلیجی خطے میں تمام ہندوستانی بحری جہاز محفوظ ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہندوستانی جھنڈے والے بحری جہازوں سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ ڈی جی شپنگ کنٹرول روم نے اب تک 6,449 کالز اور 13,343 سے زائد ای میلز کو ہینڈل کیا ہے، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 157 کالز اور 215 ای میلز شامل ہیں۔ وزارت نے ڈی جی شپنگ کے ذریعے 2,337 ہندوستانی بحری جہازوں کی بحفاظت واپسی میں سہولت فراہم کی ہے، جن میں 75 ایسے ہیں جو گزشتہ 24 گھنٹوں میں واپس آئے ہیں۔

مزید برآں، مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری اور ڈیولپمنٹ کمشنر ڈاکٹر رجنیش نے بتایا کہ فروری-مارچ میں ادیم پورٹل پر 20 لاکھ سے زیادہ نئے ایم ایس ایم ای رجسٹرڈ ہوئے، جس سے رجسٹرڈ یونٹوں کی کل تعداد 80 ملین سے زیادہ ہوگئی۔ کریڈٹ سپورٹ مضبوط بنا ہواہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایم ای کو بقایا قرض 36.7 لاکھ کروڑ سے تجاوز کر گئے ہیں، سہ ماہی کریڈٹ میں 23.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مائیکرو اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے غیر محفوظ قرضوں کی حد کو 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ یہ اصول یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔

ڈاکٹر رجنیش نے کہا کہ کریڈٹ گارنٹی سپورٹ بھی مضبوط رہی۔ فروری-مارچ میں 92,000 کروڑ مالیت کی 5.27 لاکھ سے زیادہ ضمانتیں جاری کی گئیں۔ لیکویڈیٹی سپورٹ کے لحاظ سے، T-ReadS پلیٹ فارم پر انوائس ڈسکاو¿نٹنگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ 2022 میں 4,300 کروڑ سے بڑھ کر اب 7 لاکھ کروڑ سے زیادہ ہو گیا ہے، جس میں صرف فروری-مارچ میں 85,000 کروڑ شامل ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande