
۔ روس نے ناکہ بندی کی مخالفت کی، اسرائیل نے حمایت کی
واشنگٹن/تہران، 13 اپریل (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے بعد ایران کے خلاف سمندری ناکہ بندی باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کا معائنہ کیا جائے گا، خاص طور پر ان جہازوں پر نظر رکھی جائے گی جن پر ایران کو ٹول ادا کرنے کا شبہ ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی شام 7:30 بجے (امریکی وقت کے مطابق 10 بجے) سے نافذ ہوgئی۔ اس اقدام کا مقصد ایران کی اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور اس پر دباو¿ بڑھانا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ایرانی جہاز ناکہ بندی کے قریب آئے گا, اسے فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں وہی سخت اسٹریٹجی اپنائی جائے گی، جس کا استعمال سمندر میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیےکیا جاتا ہے ۔
تاہم ہندوستان میں ایران کے سفیر محمد فتح علی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہندوستانی بحری جہازوں سے کوئی ٹول وصول نہیں کیا جارہا ہے اور انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جارہا ہے۔
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد دو بحری جہاز ہرمز سے واپس لوٹ گئے۔ ان میں سے ایک بحری جہاز چین کا بتایا جا رہا ہے ، جس پر نقلی پرچم لگا ہوا تھا۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکی فیصلے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم ایران کی طرف سے امن کوششوں کی خلاف ورزی کے بعد جائز ہے اور اسرائیل اس معاملے پر امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے۔
ادھر روس نے ناکہ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ اس فیصلے کے بہت سے پہلو ابھی تک غیر واضح ہیں اور اس کے بین الاقوامی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی اور تجارت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔ یہ راستہ دنیا کے اہم ترین تیل کی نقل و حمل کے راستوں میں سے ایک ہے، اس لیے وہاں کسی بھی فوجی سرگرمی کے بڑے پیمانے پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد