حیدرآباد میں ایران کے کردار پر قومی سمینارکا انعقاد
حیدرآباد ، 12 اپریل (ہ س) شہر حیدرآباد میں ’بین الاقوامی جغرافیائی سیاست کی تشکیل نو میں ایران کا رول‘ کے عنوان سے ایک قومی سمینار منعقد ہوا، جس میں مقررین نے ایران کے کردار، عالمی حالات اورحالیہ تنازعات کے تناظر میں اہم خیالات کا اظہار کیا۔ یہ سم
حیدرآباد میں ایران کے کردار پر قومی سمینارکا انعقاد


حیدرآباد ، 12 اپریل (ہ س) شہر حیدرآباد میں ’بین الاقوامی جغرافیائی سیاست کی تشکیل نو میں ایران کا رول‘ کے عنوان سے ایک قومی سمینار منعقد ہوا، جس میں مقررین نے ایران کے کردار، عالمی حالات اورحالیہ تنازعات کے تناظر میں اہم خیالات کا اظہار کیا۔ یہ سمینار تنظیم جوڈیشیل کویسٹ کے زیر اہتمام منعقد ہوا، جس میں دہلی کے سابق لفٹیننٹ گورنر اورجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر نجیب جنگ نے کلیدی خطاب کیا، جبکہ سابق سفیر اور وزارت خارجہ کے سابق معتمد ڈاکٹراوصاف سعید مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔سینئر صحافی قربان علی اور حجۃ الاسلام آغا مجاہد حسین بھی اعزازی مہمان کے طور پر موجود تھے۔ نجیب جنگ نے کہا کہ ایران نے مشکل حالات میں غیر معمولی حوصلے اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کامقابلہ کیا اور دنیا کو ایک نئی سمت دی۔ انہوں نے حالیہ تنازعات میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حالات انسانی تاریخ کا ایک المناک باب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے حالات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششیں ناکام رہیں اور ایرانی عوام نے اتحاد اور حب الوطنی کی مثال قائم کی۔ ڈاکٹر اوصاف سعید نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں بے چینی پائی جاتی ہے اور حالیہ جنگی حالات نے ایک نئے عالمی نظام کی جھلک پیش کی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں جاری امن مذاکرات کے حوالے سے امید ظاہر کی کہ مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ امن تجاویز خطے میں استحکام لا سکتی ہیں، جبکہ منجمد اثاثوں کی بحالی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ایران کے قونصل جنرل حامد احمدیہ نے اس موقع پر ہندوستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے صبر و حکمت کے ساتھ حالات کا سامنا کیا اور اپنی خودمختاری اور وقار کے تحفظ کے لیے مضبوط موقف اپنایا۔ سینئر صحافی قربان علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حالات میں بھارت کو اپنے خارجہ رویے پر غور کرنا چاہیے اور اپنے دیرینہ تعلقات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے ایرانی عوام اور قیادت کے حوصلے کو سراہا۔

۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande