بہن بیٹیوں کی فلاح سے ہمہ جہت ترقی ہوگی، وزیر اعظم نے خواتین کو بااختیار بنانے کا قدم اٹھایا: موہن یادو
وزیر اعلیٰ نے ریاست کی 1.25 کروڑ لاڈلی بہنوں کے کھاتوں میں 1836 کروڑ روپے منتقل کیے بھوپال، 12 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ بیٹیوں اور بہنوں کی فلاح کے بغیر ہمہ جہت ترقی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ آزادی کے بعد و
وزیر اعلیٰ نے ریاست کی 1.25 کروڑ لاڈلی بہنوں کے کھاتوں میں 1836 کروڑ روپے منتقل کیے


ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کا لوک ارپن اور بھومی پوجن


دو کلومیٹر طویل روڈ شو میں امڈا جن سیلاب


وزیر اعلیٰ نے ریاست کی 1.25 کروڑ لاڈلی بہنوں کے کھاتوں میں 1836 کروڑ روپے منتقل کیے

بھوپال، 12 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ بیٹیوں اور بہنوں کی فلاح کے بغیر ہمہ جہت ترقی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ آزادی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پہلی بار خواتین کو بااختیار بنانے کا بڑا کام اسی ماہ ہونے جا رہا ہے۔ اب لوک سبھا اور اسمبلی میں بہنوں کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی سہ روزہ اجلاس 16 اپریل سے شروع ہونے جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو اتوار کو ضلع سیہور کے آشٹہ میں خواتین کو بااختیار بنانے کی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے لاڈلی بہنا یوجنا کی 35 ویں قسط کی رقم 1836 کروڑ روپے 1.25 کروڑ مستفید بہنوں کے کھاتوں میں سنگل کلک سے منتقل کیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لیے ہماری حکومت اب تک لاڈلی بہنا یوجنا کے ذریعے بہنوں کو 55 ہزار کروڑ سے زائد رقم دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں مادر سری نظام کی روایت ہے۔ اب ریاست میں ہر ماہ رکشا بندھن منایا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آشٹہ کی طالبات کے لیے آج خصوصی سوغات کا دن ہے۔ انہوں نے گرلز کالج اور گرلز اسکول میں ہاسٹل کے ساتھ گرلز اسکول کی عمارت کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت بیٹیوں کو بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع سیہور کے آشٹہ میں آج تریوینی سنگم ہے۔ آشٹہ ماں پاروتی ندی کا منبع ہے۔ یہاں کے ساندیپنی اسکولوں میں 90 فیصد بچے پرائیویٹ اسکول چھوڑ کر آئے ہیں۔ ریاستی حکومت طلبہ کو چار لاکھ سائیکلیں تقسیم کر رہی ہے۔ ہونہار طلبہ کو لیپ ٹاپ اور اسکول ٹاپ کرنے والے بچوں کو اسکوٹی دی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سال 2026 کو کسان فلاح و بہبود کا سال منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسانوں کی فلاح کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کسانوں کے لیے صرف دو سال میں تقریباً 10 لاکھ ہیکٹر آبپاشی کا رقبہ بڑھ گیا ہے۔ گیہوں پر 40 روپے بونس دے کر 2625 روپے فی کوئنٹل خریداری کی جا رہی ہے۔ اب گاؤں میں 24 گھنٹے بجلی سپلائی کر کے کسانوں کو دن میں بھی آبپاشی کے لیے بجلی دے رہے ہیں۔ صرف 5 روپے میں بجلی کنکشن دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں 12 لاکھ سے زائد لکھپتی دیدیاں ہیں۔ ریاست کے 5 لاکھ سے زائد سیلف ہیلپ گروپس کی 65 لاکھ سے زائد بہنیں بااختیار ہوئی ہیں۔ ریاستی حکومت وزیر اعلیٰ کنیا دان یوجنا کے تحت شادی کے لیے 55 ہزار روپے کی رقم دے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے 184 کروڑ کی لاگت کے ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کا لوک ارپن اور بھومی پوجن بھی کیا۔ ان میں آشٹہ اور جاور میں نو تعمیر شدہ ساندیپنی اسکول کا لوک ارپن بھی شامل ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے مختلف عوامی فلاحی اسکیموں میں اہل افراد کو مراعات بھی تقسیم کیں۔

وزیر اعلیٰ نے آشٹہ میں نئے آئی ٹی آئی کا قیام، کالج میں گرلز ہاسٹل کی تعمیر، نالے کی تعمیر، جاور میں شہری خوبصورتی، ضلعی سطح کے درج فہرست طبقہ کے طلبہ و طالبات کے ہاسٹل کی تعمیر اور آشٹہ میں گرلز ہائر سیکنڈری اسکول کی نئی عمارت کی تعمیر، جاور کالج میں سائنس فیکلٹی شروع کرنے، گراڑیا خورد بیراج کی تعمیر، دودھی ندی پر نئے بیراج، نہر کی تعمیر اور گیتا بھون بنانے کا اعلان کیا۔ پروگرام میں علاقائی رکن پارلیمنٹ مہندر سنگھ سولنکی اور رکن اسمبلی گوپال سنگھ انجینئر نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں وزیر محصولات کرن سنگھ ورما، ضلع سیہور کی انچارج وزیر کرشنا گور، رکن اسمبلی سودیش رائے اور اماکانت بھارگو سمیت عوامی نمائندے اور بڑی تعداد میں لاڈلی بہنیں موجود تھیں۔

آشٹہ شہر میں اتوار کو اس وقت ایک تاریخی اور متاثر کن منظر دیکھنے کو ملا، جب تقریباً دو کلومیٹر طویل روڈ شو کے دوران شہر کی سڑکوں پر جن سیلاب امڈ آیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کے استقبال میں شہریوں نے آنکھیں بچھا کر ان کا خیر مقدم کیا۔ پورے شہر میں جشن جیسا ماحول رہا اور ہر طبقے کے لوگوں نے بے پناہ جوش و خروش کے ساتھ وزیر اعلیٰ کا شاندار استقبال کیا۔ وزیر اعلیٰ نے بھی اپنائیت سے شہریوں کا سلام قبول کرتے ہوئے سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ جگہ جگہ شہریوں کی جانب سے مسلسل پھولوں کی بارش کی گئی، پھول مالاؤں سے وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا گیا نیز پگڑی اور انگ وستر پیش کر کے انہیں نوازا گیا۔ پورے راستے پر استقبال کے شاندار مناظر دیکھنے کو ملے، جہاں ہر قدم پر لوگوں کا جوش عروج پر نظر آیا۔ اس دوران مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 35 سے زائد مذہبی، ثقافتی، سماجی، تجارتی اور دیگر تنظیموں نے بھی شرکت کر کے وزیر اعلیٰ کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔

وزیر اعلیٰ نے آشٹہ میں واقع ساندیپنی اسکول کا لوک ارپن کرنے کے بعد جماعت 11 ویں اور 12 ویں کے طلبہ و طالبات سے والہانہ مذاکرہ کیا۔ اس دوران انہوں نے مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے طلبہ سے ان کے مستقبل کے اہداف اور کیریئر کے بارے میں بات چیت کی۔ وزیر اعلیٰ نے طلبہ سے پوچھا کہ کون ڈاکٹر، ٹیچر، انجینئر بنے گا، کون اپنی صنعت قائم کرے گا اور کون سیاست میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو مختلف شعبوں میں کیریئر بنانے کے ساتھ سیاست میں بھی سرگرم شرکت کرنی چاہیے، کیونکہ مستقبل میں ملک کی قیادت انہیں ہی کرنی ہے۔

مذاکرے کے دوران اس وقت کلاس میں خصوصی جوش و خروش کا ماحول بن گیا، جب وزیر اعلیٰ نے پوچھا کہ کتنے طلبہ نے نجی اسکولوں سے ساندیپنی اسکول میں داخلہ لیا ہے۔ اس پر تمام 32 طلبہ نے ہاتھ اٹھا کر بتایا کہ وہ پرائیویٹ اسکول سے یہاں آئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اسے مثبت اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ساندیپنی اسکول کی بہتر تعلیم اور انتظامات کی معلومات طلبہ اپنے والدین اور دوستوں کو بھی دیں۔

وزیر اعلیٰ نے آشٹہ میں روڈ شو کے دوران امبیڈکر دھرم شالہ پہنچ کر بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کے مجسمے پر گلباری کی۔ انہوں نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے آئین سازی میں بابا صاحب کی بے مثال خدمات کو یاد کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بابا صاحب کے خیالات آج بھی ملک کو سمت دینے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ حادثہ نہیں بلکہ ایک تاریخی سفر ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande