
علی گڑھ, 07 مارچ (ہ س)۔
کل ملک بھر میں کل عالمی یومِ خواتین منایا جائے گا، لیکن اس موقع پر ایک اہم سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا واقعی اس دن کے مقاصد عملی طور پر پورے ہو رہے ہیں؟ اسی حوالے سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج اسپتال کی اسسٹنٹ نرسنگ سپرنٹنڈنٹ مس ہما روہی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہما روہی نے کہا کہ خواتین کے حقوق اور ان کی بااختیار بنا نے بارے میں بہت سی باتیں کی جاتی ہیں، سیمینار منعقد ہوتے ہیں اور ہر سال بڑے پیمانے پر عالمی یومِ خواتین منایا جاتا ہے، لیکن زمینی حقیقت اس سے کافی مختلف نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق آج بھی ملک میں خواتین کو وہ مواقع اور حقوق مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے جن کا وعدہ طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے سرکاری ملازمتوں اور مختلف شعبوں میں مواقع بڑھانے کی باتیں تو کی جاتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج بھی بہت سی خواتین کو معاشی اور سماجی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ ملازمتوں میں خواتین کی شمولیت کا تناسب کئی جگہوں پر کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جو معاشرے کے لیے ایک تشویشناک علامت ہے۔ہما روہی نے پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے خواتین ریزرویشن بل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس بل کو ایک تاریخی قدم قرار دیا گیا تھا، جس کے تحت پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے نشستیں محفوظ کرنے کی بات کی گئی تھی۔ تاہم، ان کے مطابق اس قانون کے عملی نفاذ میں اب تک تاخیر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے خواتین کو وہ سیاسی نمائندگی حاصل نہیں ہو پا رہی جس کی انہیں ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر واقعی خواتین کو بااختیار بنانا ہے تو صرف قانون بنانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس پر فوری اور مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو سیاسی، سماجی اور معاشی سطح پر برابر کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مس ہما روہی کا کہنا تھا کہ صرف ایک دن خواتین کے نام کر دینا یا رسمی تقریبات منعقد کر لینا کافی نہیں ہے۔ حقیقی معنوں میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی ترقی کے لیے معاشرے کے تمام طبقات، حکومت، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کو مل کر سنجیدہ اور مسلسل کوششیں کرنی ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک خواتین کو تعلیم، روزگار، فیصلہ سازی اور قیادت کے میدان میں بھرپور مواقع نہیں ملیں گے، تب تک خواتین کی حقیقی ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ ان کے مطابق ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرہ اسی وقت ممکن ہے جب خواتین کو ان کا جائز حق، عزت اور برابر کی نمائندگی حاصل ہو۔
اسی امید کے ساتھ ملک بھر میں کل عالمی یومِ خواتین منایا جائے گا، تاکہ نہ صرف خواتین کی کامیابیوں کو سراہا جائے بلکہ ان مسائل کو بھی اجاگر کیا جائے جو آج بھی خواتین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ