
نئی دہلی، 7 مارچ (ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے اے آئی سمٹ میں نیم عریاں احتجاج کے سلسلے میں انڈین یوتھ کانگریس کے کارکن سدھارتھ اودھوت کی جیل سے رہائی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم سدھارتھ اودھوت کی طرف سے پیش کی گئی ضمانت کی تصدیق کے بعد جاری کیا۔اودھوت کو ہماچل پردیش سے گرفتار کیا گیا تھا۔
عدالت نے 5 مارچ کو سدھارتھ اودھوت کو ضمانت دی تھی۔ عدالت نے 50 ہزار روپے کے مچلکے پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ سماعت کے دوران سدھارتھ اودھوت کی وکیل نندیتا راو¿ نے کہا کہ درخواست گزار کا کردار دوسرے شریک ملزمان سے مختلف ہے ۔ سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کی۔ دہلی پولیس کے وکیل اتل سریواستو نے کہا کہ ضمانت کی عرضی پہلے مسترد کی جا چکی ہے اور وہ دوسرے شریک ملزمان کو دی گئی ضمانت کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ تب نندیتا راو¿ نے کہا کہ اودھوت کے خلاف تحقیقات مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے فرار ہونے کا بھی خدشہ نہیں ہے اور معاشرے میں اس کی جڑیں گہری ہیں ۔
سماعت کے دوران، دہلی پولیس نے کہا کہ سدھارتھ اودھوت نے مظاہرین کے ذریعہ پہنیگئی ٹی شرٹس کو ڈیزائن اور پرنٹ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ 2 مارچ کو پٹیالہ ہاو¿س مجسٹریٹ کورٹ نے اس معاملے میں یوتھ کانگریس کے نو کارکنوں کو ضمانت دے دی تھی ۔ دہلی پولیس نے مجسٹریٹ کورٹ کے حکم کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا، جس کے بعد نو کارکنوں کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
اس معاملے میں یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب کو 28 فروری کو مجسٹریٹ کورٹ نے ضمانت دی تھی۔28 فروری کو ہی سیشن کورٹ نے ضمانت پر روک لگا دی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے 2 مارچ کو چِب کی ضمانت پر سے روک ہٹا دیا تھا۔ یوتھ کانگریس کے جنرل سکریٹری نگم بھنڈاری کو 24 مارچ تک عبوری ضمانت مل چکی ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد