
جموں, 07 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 9 مارچ کو بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف ضلع سطح پر احتجاجی مظاہرے کرے گی۔ اس بات کا اعلان پارٹی کے صدر طارق حمید قرا نے آر ایس پورہ سرحدی علاقے میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔طارق حمید قرا نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور اس تجارتی معاہدے میں ملک کی عزت، وقار اور مفادات کو نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے کیونکہ حکومت نے امریکہ کے دباؤ کے سامنے جھک کر خارجہ پالیسی اور قومی مفادات پر سمجھوتہ کیا ہے۔
کانگریس رہنما نے اس تجارتی معاہدے کو کسان مخالف اور عوام مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نے کچھ بین الاقوامی معاملات کے خوف کے باعث امریکہ کے سامنے جھکاؤ اختیار کیا۔
طارق حمید نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کے دوران بھارت کی روایتی خارجہ پالیسی متاثر ہوئی ہے اور ملک نے کئی بین الاقوامی دوست کھو دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاہدے سے ملک کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔قرہ کے مطابق کانگریس 9 مارچ کو جموں و کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر احتجاجی مظاہرے کرے گی، جو پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی منعقد کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس اس تجارتی معاہدے کی مخالفت اور جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے لیے ایک یاترا نکالنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر