
جموں, 07 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کمپلائنس ریڈکشن اور ڈی ریگولیشن 2.0 پروگرام کے تحت جاری پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس قومی اقدام کا مقصد ضابطہ جاتی بوجھ کو کم کرنا اور جموں و کشمیر میں کاروبار کے لیے سازگار اور عوام دوست ماحول پیدا کرنا ہے۔اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کو نہ صرف صنعتوں بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی زندگی کو آسان بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قوانین اور ضابطوں کا مقصد نظام کو مؤثر بنانا ہے، نہ کہ عوام کے لیے غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا کرنا ہے۔
حکومت جموں و کشمیر نے پروگرام کے پہلے مرحلے میں 23 ترجیحی اصلاحاتی شعبوں کی نشاندہی کی تھی اور تمام اہداف کامیابی کے ساتھ حاصل کیے گئے۔ دوسرے مرحلے میں ان اصلاحات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے صحت، تعلیم، سیاحت، صنعت سمیت دیگر 23 اہم شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ سرندر کمار چودھری کے علاوہ وزراء سکینہ ایتو، جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اس موقع پر چیف سکریٹری اٹل ڈلو اور وزیر اعلیٰ دفتر کے ایڈیشنل چیف سکریٹری دھیرج گپتا سمیت کئی اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ فنانشل کمشنر و ایڈیشنل چیف سکریٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اشونی کمار اور فنانشل کمشنر و ایڈیشنل چیف سکریٹری ٹورزم ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر آشیش چندر ورما بھی اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس کے دوران چیف سکریٹری نے جاری اصلاحات کی موجودہ صورتحال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے لیے درکار اجازت ناموں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مختلف شعبوں میں اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں سے ہر اقدام کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان معاملات میں غیر ضروری کاغذی کارروائی کو کم کرنا ضروری ہے۔
اجلاس میں زمین کے استعمال کے ضابطوں کو آسان بنانے، دیہی و شہری علاقوں میں صنعتی زمین کے بہتر استعمال، کاروبار کے لیے دوہری لائسنسنگ ختم کرنے اور صنعتی منظوریوں کے عمل کو مزید آسان بنانے جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ نجی تعلیمی اداروں کے تقاضوں کو آسان بنانے اور طبی ماہرین کی رجسٹریشن کے لیے ایک مربوط لائسنسنگ نظام قائم کرنے پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں ڈیجیٹل نظام حکومت کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی، جن میں پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ کے تحت خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خودکار اپیل نظام قائم کرنا اور ریاستی قوانین، قواعد و ضوابط اور سرکاری احکامات کا مرکزی ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کرنا شامل ہے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ زیر غور ہر اصلاحاتی اقدام کے لیے واضح اور قابلِ پیمائش مدت مقرر کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ جاتی نظام کو آسان بنانا جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور عوام و کاروباری طبقے کو عملی فائدہ پہنچانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر