نیپال: ایوان نمائندگان کے انتخابات کے لیے ملک بھر میں ووٹنگ جاری
کٹھمنڈو، 5 مارچ (ہ س)۔ نیپال میں ایوان نمائندگان کے انتخابات کے لیے جمعرات کو ملک بھر میں ووٹنگ جاری ہے ۔ ووٹرز اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے پولنگ اسٹیشن پر پہنچ رہے ہیں۔ 65 سیاسی جماعتیں الیکشن لڑ رہی ہیں۔ 165 نشستوں کے لیے کل 3,406 امیدوار میدا
Nepal-Election-Voting-started-


کٹھمنڈو، 5 مارچ (ہ س)۔ نیپال میں ایوان نمائندگان کے انتخابات کے لیے جمعرات کو ملک بھر میں ووٹنگ جاری ہے ۔ ووٹرز اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے پولنگ اسٹیشن پر پہنچ رہے ہیں۔ 65 سیاسی جماعتیں الیکشن لڑ رہی ہیں۔ 165 نشستوں کے لیے کل 3,406 امیدوار میدان میں ہیں جن میں 3,017 مرد، 388 خواتین اور ایک امیدوار دیگرزمرے سے ہے۔

جبکہ متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت 3,135 امیدوار میدان میں ہیں جن میں 1,363 مرد اور 1,772 خواتین شامل ہیں۔ متناسب نظام کے تحت 110 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں۔ نیپال کے انتخابی کمیشن کے مطابق اس سال کل 1,89,03,689 رجسٹرڈ رائے دہندگان ہیں۔ ان میں 96,63,358 مرد، 92,40,131 خواتین اور 200 دیگر ووٹرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 1,86,142 عارضی ووٹرز کا بھی اندراج کیا گیا ہے۔

انتخابات کے لیے کمیشن نے ملک بھر میں 10,967 پولنگ مقامات پر 23,112 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں جن میں 143 عارضی پولنگ اسٹیشن بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی بندوبست کو یقینی بنانے کے لیے 79,727 نیپال آرمی کے اہلکار، 75,797 نیپال پولیس، 34,567 مسلح پولیس فورس کے اہلکار، 1,921 نیشنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاراور 149,090 عارضی الیکشن پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں تقریباً 215,000 انتخابی عملے کو تعینات کیا گیا ہے۔

ان انتخابات کے لیے، براہ راست اور متناسب انتخابی نظام دونوں کے لیے مجموعی طور پر 42,251,200 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔ چار بین الاقوامی اور 39 قومی اداروں کو ووٹنگ کے عمل کا مشاہدہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ دریں اثنا، الیکشن کمیشن نے ووٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابات میں جوش و خروش سے حصہ لیں اور اپنا جمہوری حق استعمال کریں۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر رام پرساد بھنڈاری نے کہا کہ کمیشن آئین کے مطابق آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور قابل اعتماد انتخابات کرانے کا پابند ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات محض نمائندوں کے انتخاب یا حکومت سازی کا عمل نہیں ہے بلکہ جمہوری جواز کی تجدید کا آئینی عمل بھی ہے۔ اس لیے انہوں نے شہریوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔ بھنڈاری نے یہ بھی کہا کہ ووٹنگ ختم ہونے کے فوراً بعد بیلٹ باکس کو محفوظ طریقے سے جمع کیا جائے گا، ور 24 گھنٹے کے اندر عوام کو براہ راست نظام کے نتائج جاری کرنے کی تیاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ باکس کی حفاظت کے حوالے سے موجودہ دفعات برقرار رہیں گی اور ووٹروں کے جوش و خروش میں اضافہ اس بار ووٹروں کی زیادہ تعداد اور غلط ووٹوں کی کم تعداد کا باعث بننے کی توقع ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande