
ممبئی ، 4 مارچ (ہ س)۔ شیو سینا (ٹھاکرے)کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع کے پیچھے کچھ پوشیدہ مقاصد ہو سکتے ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس جنگ کو مبینہ طور پر “ایپسٹین فائلز” سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ان دستاویزات میں ہندوستانی سیاست دانوں کے نام شامل ہیں اور کیا اس وجہ سے عالمی سطح پر یہ تنازع بھڑکا ہے۔
سنجے راؤت نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت سے متعلق خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ہندوستانی حکومت کا سفارتی ردعمل واضح ہونا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ کیا ایران میں پیش آنے والے واقعے پر باضابطہ تعزیتی پیغام یا سفارتی رابطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جب پاکستان میں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو فوری طور پر تعزیت کا اظہار کیا جاتا ہے، لیکن ایران کے معاملے میں ایسا کیوں نہیں ہوا۔
راؤت نے کانگریس پارٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس جنگ کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کرے۔ ان کے مطابق کانگریس ایک بڑی اپوزیشن جماعت ہے اور اسے یہ بتانا چاہیے کہ آیا جواہر لعل نہرو کی خارجہ پالیسی اب ختم ہو چکی ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو افغانستان میں پہلے ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ممکن ہے کہ اس تنازع میں بھی اس نے غلط اندازہ لگایا ہو۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے