بیرون ملک پھنسے مہاراشٹر کے شہریوں کی واپسی جاری ، فڑنویس نے قانون ساز کونسل میں دی تفصیلات
دبئی سے 164 افراد کو واپس لایا گیاممبئی ، 04 مارچ (ہ س) مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بدھ کو قانون ساز کونسل میں بتایا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بیرون ملک پھنسے مہاراشٹر کے شہریوں کو محفوظ طریقے سے واپس
Politics-Maha-Fadnavis-Stateme


دبئی سے 164 افراد کو واپس لایا گیاممبئی ، 04 مارچ (ہ س) مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بدھ کو قانون ساز کونسل میں بتایا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بیرون ملک پھنسے مہاراشٹر کے شہریوں کو محفوظ طریقے سے واپس لانے کے لیے ریاستی حکومت سرگرم ہے۔ انہوں نے ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا میں جنگی صورتحال پیدا ہونے کے بعد حکومت نے فوری طور پر مرکزی وزارت خارجہ اور مختلف ممالک کے بھارتی سفارت خانوں سے رابطہ قائم کیا۔فڑنویس نے بتایا کہ ریاستی وزیر گریش مہاجن کو اس معاملے میں رابطہ کاری کی ذمہ داری دی گئی ہے اور وہ وزارت خارجہ اور متعلقہ سفارتی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں دبئی میں پھنسے 164 افراد کو اب تک محفوظ طور پر واپس لایا جا چکا ہے۔وزیر اعلیٰ کے مطابق ایئر انڈیا کی پروازیں مرحلہ وار متاثرہ علاقوں سے شہریوں کو واپس لا رہی ہیں۔ بعض فضائی حدود بند ہیں جبکہ کچھ کھلی ہیں، اس لیے جہاں بھی ممکن ہو وہاں سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کویت میں کچھ شہریوں کو ویزا سے متعلق مشکلات پیش آئیں، تاہم بھارتی سفارت خانے نے انہیں ایک جگہ محفوظ رکھا ہے تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔فڑنویس نے کہا کہ حکومت نے ہیلپ لائن کے ذریعے بھی لوگوں کو مدد فراہم کی ہے اور بیرون ملک موجود مراٹھی منڈلوں کو بھی فعال کیا گیا ہے تاکہ وہ مقامی سطح پر شہریوں کی مدد کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گریش مہاجن نے متاثرہ افراد سے ویڈیو کال کے ذریعے رابطہ کیا ہے اور اس عمل کی نگرانی چیف پروٹوکول افسر گوانڈے کر رہے ہیں جو فارن سروس کے تجربہ کار افسر ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کے اثرات پورے خلیجی خطے تک پھیل رہے ہیں۔ تہران، لبنان اور آبنائے ہرمز تک جنگی صورتحال کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی منصوبوں پر حملوں اور میزائل حملوں کے باعث عالمی تیل کی سپلائی پر تشویش پیدا ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں اور عالمی اسٹاک مارکیٹ پر بھی اثر پڑا ہے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande