ہیتی میں مسلح گروہ کی خونریزی، کم از کم 70 افراد ہلاک
پورٹ او پرنس، 31 مارچ (ہ س)۔ شدید تشدد کا شکار کیریبین ملک ہیتی میں مسلح گروہ نے حملہ کر کے کم از کم 70 افراد کو ہلاک کر دیا۔ 30 سے زائد افراد اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں جن میں کئی کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ ہیتی کے اہم زرعی علاقے آرٹیبونائٹ میں پیٹ
ہیتی میں مسلح گروہ کی خونریزی، کم از کم 70 افراد ہلاک


پورٹ او پرنس، 31 مارچ (ہ س)۔ شدید تشدد کا شکار کیریبین ملک ہیتی میں مسلح گروہ نے حملہ کر کے کم از کم 70 افراد کو ہلاک کر دیا۔ 30 سے زائد افراد اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں جن میں کئی کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ ہیتی کے اہم زرعی علاقے آرٹیبونائٹ میں پیٹٹ ریویئر کے قریب اس حملے کے دوران 50 سے زائد گھر جل کر خاکستر ہو گئے۔ اتوار کی صبح سویرے شروع ہونے والی حملہ آوروں کی دہشت گردی پیر تک جاری رہی۔ یہ خونریزی حالیہ مہینوں میں ہونے والی متعدد اجتماعی ہلاکتوں کی ایک اور کڑی ہے۔ تاہم پورے واقعے پر انتظامی سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ میڈیا ادارہ دی ہیٹین ٹائمز کے مطابق کلیکٹو ٹو سیو آرٹیبونائٹ نے ریڈیو ٹیلیویژن کیریبس کو بتایا کہ یہ حملہ 28 مارچ کو شروع ہوا تھا جو پیر تک جاری رہا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ مسلح افراد بڑی تعداد میں علاقے میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ پولیس اور خود دفاعی گروہوں کے پہنچنے پر حملہ آور کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹ گئے لیکن ان کے جانے کے بعد واپس آ کر حملہ جاری رکھا۔ اتوار سے پیر تک تشدد جاری رہا اور تلاشی مہم کے دوران مزید لاشیں ملنے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ مقامی امدادی گروہوں نے کم از کم 70 اموات کی تصدیق کی ہے لیکن خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 85 سے 100 تک پہنچ سکتی ہے۔ اس حملے میں 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو سینٹ نکولس اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ یہ حملہ آرٹیبونائٹ کمیون کے پیٹٹ ریویئر علاقے کے جین ڈینس علاقے کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا۔

بھاری ہتھیاروں سے لیس گران گریف گروہ پر حملے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جو سیوین علاقے میں سرگرم ویو انسانسانم سے منسلک ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے ہیٹی میں اس قتل عام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہیٹی میں قائم تنظیم کا دفتر بی آئی این یو ایچ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 10 سے 80 کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 2021 سے ہیٹی میں اندرونی تشدد کے باعث تقریباً 20,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ دارالحکومت میں بڑی تعداد میں گروہوں کو منظم کرنے والے گران گریف اور ویو انسانسانم کو امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ ان گروہوں پر اجتماعی قتل، اجتماعی زیادتی، آتش زنی، چوری اور ہتھیاروں، منشیات اور انسانی اعضا کی اسمگلنگ کے الزامات ہیں۔ اس مہینے امریکہ نے ان کی مالی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کو 30 لاکھ ڈالر تک انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande