
نئی دہلی، 30 مارچ (ہ س)۔
مذہب کی بنیاد پر او بی سی ریزرویشن کے غلط استعمال کے بارے میں اٹھائے گئے ایک سوال کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے پیر کو راجیہ سبھا سے واک آو¿ٹ کیا۔ وقفہ صفر کے دوران بی جے پی رکن کے لکشمن نے مذہب کی بنیاد پر او بی سی ریزرویشن کے مبینہ غلط استعمال کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کچھ ریاستوں میں مسلم کمیونٹی کو دیے گئے ریزر ویشن پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ او بی سی ریزر ویشن سماجی اور تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر ہونا چاہئے نہ کہ مذہب کی بنیاد پر۔ کے لکشمن نے الزام لگایا کہ تلنگانہ، مغربی بنگال، تمل ناڈو، اور کیرالہ جیسی ریاستوں میں مذہب کی بنیاد پر غیر منصفانہ طور پر ریزرویشن دیے جا رہے ہیں، جو کہ غیر آئینی ہے۔ اس سے ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر پرمود تیواری نے کہا کہ ایوان میں اٹھایا گیا مسئلہ تفرقہ انگیز ہے اور پسماندہ طبقات کے تحفظات کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے شدید اعتراض کیا اور ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالتے ہوئے واک آو¿ٹ کیا۔ قائد ایوان جے پی نڈا نے اپوزیشن جماعتوں کے واک آو¿ٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بحث کرنے سے گریزاں ہے اور کانگریس خوشامد کی سیاست میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی دکھ کے ساتھ انہیں یہ کہنا پڑا کہ کانگریس کی قیادت والے انڈیا اتحاد کو جمہوریت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، نہ ہی پارلیمانی نظام کی پاسداری میں، نہ ہی کسی مسئلہ پر بات کرنے اور بحث کرنے میں، اور نہ ہی آئین کی پاسداری میں۔ انہیں آئین پر یقین نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں مسلم کمیونٹی کو ووٹ بینک کے طور پر دیکھتی ہیں۔
انہوں نے صرف مسلم ووٹ بینک حاصل کرنے کے لیے خوشامد کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ کے لکشمن کی طرف سے او بی سی ریزرویشن کا مسئلہ ایک آئینی معاملہ ہے، لیکن کانگریس کے ارکان سیاست کے ذریعے سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کسی بھی موضوع پر بات کرنے کو تیار ہے۔ پوری اپوزیشن اپنے سیاسی مقاصد کے لیے معاشرے کو تقسیم کرنے اور ماحول کو آلودہ کرنے میں مصروف ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ