
ناندیڑ ، 30 مارچ (ہ س)۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ قوانین کسانوں کے لیے بنائے جاتے ہیں اور کسان قوانین کے تابع نہیں ہوتے۔ 30 مارچ کو ناندیڑ-لوہا میں منعقدہ ایک بڑے کسان کنونشن اور پارٹی شمولیت پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے کسانوں کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہی نقصان پہنچایا، جبکہ موجودہ حکومت کسانوں کی بھلائی کے لیے عملی اور ٹھوس فیصلے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وعدہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا چاہیے لیکن دیا گیا وعدہ کبھی نہیں توڑنا چاہیے، اور خود کو ایسا لیڈر قرار دیا جو اپنے وعدے پر قائم رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک کسان کے بیٹے ہیں اور جدوجہد کے ذریعے وزیراعلیٰ بنے، نہ کہ کسی مراعات یافتہ پس منظر سے آئے۔ایکناتھ شندے نے کہا کہ شیو سینا کارکنوں کی جماعت ہے اور اس میں وہی آگے بڑھتا ہے جو کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم کا مطلب کامن مین اور ڈی سی ایم کا مطلب کامن مین کے لیے وقف ہونا ہے، اور اپنی شناخت کو عام لوگوں سے جوڑا۔اپنی تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ بھگوان سے یہی پراتھنا کرتے ہیں کہ کسان خوشحال ہو اور کسانوں کی خودکشیوں کا سلسلہ رک جائے۔ اس موقع پر انہوں نے کسانوں کے مفاد، ترقی اور عام شہریوں کے تئیں حکومت کی وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے اپوزیشن پر بھی تنقید کی۔انہوں نے اپنے دورِ حکومت کے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پہلی کابینہ میٹنگ میں چار آبپاشی منصوبوں کو منظوری دی گئی اور بند پڑا مراٹھواڑہ واٹر گرڈ پروجیکٹ دوبارہ شروع کیا گیا۔ ریاست میں 4.29 لاکھ کروڑ روپے کی اسکیموں کو منظوری دی گئی ہے جس کے تحت 32.45 لاکھ ہیکٹر زمین کو آبپاشی کے دائرے میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور مراٹھواڑہ سے خشک سالی کا داغ ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔انہوں نے کسانوں کے لیے لیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بے وقت بارش اور شدید بارش کے نقصانات کے لیے این ڈی آر ایف کے معیار میں تبدیلی کر کے دوگنی امداد دی جا رہی ہے، نقصان کے معاوضے کی حد 2 ہیکٹر سے بڑھا کر 3 ہیکٹر کر دی گئی ہے، مسلسل بارش سے ہونے والے نقصانات کو بھی امداد میں شامل کیا گیا ہے اور جنگلی جانوروں سے ہونے والے نقصانات کے لیے بھی معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایک روپے میں فصل بیمہ اسکیم کا بھی حوالہ دیا۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی اسکیم کے ساتھ ریاستی حکومت کی جانب سے اضافی 6000 روپے دے کر “نمو کسان” اسکیم کو وسعت دی گئی ہے اور ریاستی خزانے پر پہلا حق کسانوں کا ہے۔ قرض معافی کے حوالے سے انہوں نے 2 لاکھ روپے تک کی معافی اور باقاعدگی سے قرض ادا کرنے والے کسانوں کو 50,000 روپے کی ترغیبی رقم دینے کا ذکر کیا۔ وزیراعلیٰ امدادی فنڈ سے 450 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے اور مہاتما جیوتیبا پھلے صحت اسکیم کی حد 5 لاکھ روپے تک بڑھائی گئی۔انہوں نے بتایا کہ آفات کے دوران انہوں نے دسہرہ کے موقع پر کارکنوں کو ممبئی بلانے کے بجائے کسانوں کی مدد کے لیے روانہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ کسانوں کی دیوالی متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی خودکشیوں میں کمی کے لیے ضمنی روزگار کے مواقع، فصلوں کو مناسب قیمت اور مالی استحکام فراہم کرنے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔اس پروگرام میں کسان رہنما شنکر راو دھونڈگے کی شیو سینا میں شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صرف ناندید ہی نہیں بلکہ پورے مہاراشٹر کے کسانوں کے رہنما ہیں اور ان کی قیادت میں کسان تحریک مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے ہر گاؤں میں کسان تنظیمیں قائم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔اس موقع پر سابق رکن اسمبلی شنکر انا دھونڈگے، رکن پارلیمنٹ جیوتی تائی واگھمارے، رکن اسمبلی ہیمنت بھاؤ پاٹل، رکن اسمبلی آنندراؤ بھنڈارکر، رکن اسمبلی بالاجی کلیانکر، رکن اسمبلی بابوراؤ قدم، شنکر انا کے دونوں بیٹے، شیو سینا کے عہدیداران اور ہزاروں کسان موجود تھے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے