
اتر پردیش کے وارانسی میں 31 مارچ کو ایم پی-یوپی تعاون کانفرنس
بھوپال، 28 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش حکومت کے تعاون سے اتر پردیش کے وارانسی میں 31 مارچ کو ’’ایم پی-یوپی تعاون کانفرنس 2026‘‘ منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کانفرنس میں ریاست کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو شرکت کریں گے۔ رابطہ عامہ افسر ببیتا مشرا نے ہفتہ کو بتایا کہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی قیادت میں مدھیہ پردیش حکومت 31 مارچ کو یوپی کے وارانسی میں منعقد ہونے والی ’’ایم پی-یوپی تعاون کانفرنس 2026‘‘ کے ذریعے بین ریاستی تعاون کو ایک ٹھوس، نتیجہ خیز اور عالمی نقطہ نظر سے جوڑنے کی سمت میں فیصلہ کن پہل کرے گی۔
یہ کانفرنس اہم موضوعات پر مفصل مکالمے کے ساتھ ساتھ او ڈی او پی (ایک ضلع ایک پروڈکٹ)، جی آئی ٹیگ، روایتی دستکاری، برآمدی مصنوعات، سرمایہ کاری اور سیاحت کو یکجا کرتے ہوئے ایک جامع اقتصادی ایکو سسٹم تیار کرنے کی سمت میں کام کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی فعال موجودگی اس تقریب کو پالیسی سازی سے آگے بڑھا کر نفاذ پر مبنی تعاون کی سمت میں تبدیل کرے گی، جس سے دونوں ریاستوں کے درمیان ترقی کا ایک مضبوط اور طویل مدتی ماڈل تیار ہوگا۔
رابطہ عامہ افسر کے مطابق، پروگرام کا آغاز وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی قیادت میں کاشی وشوناتھ کوریڈور کے مطالعاتی دورے سے ہوگا، جہاں ہجوم کے بہاو کا ڈیزائن (کراوڈ فلو ڈیزائن)، بنیادی ڈھانچے کا لے آوٹ اور زائرین کے انتظام کے نظام کا گہرا مشاہدہ کیا جائے گا۔ یہ دورہ محض ایک معائنہ نہیں ہوگا، بلکہ جدید شہری منصوبہ بندی اور تیرتھ مقام (زیارت گاہ) کے انتظام کے کامیاب ماڈل کو سمجھنے کا موقع فراہم کرے گا۔ اس تجربے کی بنیاد پر مدھیہ پردیش میں مذہبی مقامات کی ترقی، سہولیات کی توسیع اور نظامی اصلاحات کے لیے عملی نقطہ نظر تیار کیا جائے گا، جس سے مذہبی سیاحت کو مزید منظم اور پرکشش بنایا جا سکے گا۔
انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں او ڈی او پی، جی آئی ٹیگ مصنوعات، روایتی دستکاری، زراعت اور غذائی مصنوعات کو برانڈنگ، مارکیٹنگ اور برآمدات سے جوڑنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اتر پردیش کی او ڈی او پی پہل کے تجربات اور اس کے معاشی اثرات کی پیشکش سے یہ واضح ہوگا کہ کس طرح مقامی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنایا جا سکتا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر دونوں ریاستوں کی مصنوعات کی خصوصیات کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں ایک مشترکہ برانڈنگ نقطہ نظر کے تحت پیش کرنے کی سمت میں غور و خوض ہوگا، جس سے برآمدات کے فروغ اور قدر میں اضافے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
رابطہ عامہ افسر نے بتایا کہ کانفرنس میں مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے درمیان ایم او یو پر دستخط کیے جائیں گے، جن کے ذریعے تجارتی تعاون، صنعتی سرمایہ کاری، مہارت کی ترقی، دستکاری کے فروغ اور سیاحت کے شعبے میں شراکت داری کو باقاعدہ شکل دی جائے گی۔ یہ معاہدہ صرف دستاویزی عمل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے زمینی سطح پر نافذ کرتے ہوئے صنعتوں، تاجروں اور دستکاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ او ڈی او پی مصنوعات کے تبادلے سے مقامی مصنوعات کو نئی منڈیوں تک پہنچانے اور ان کی برانڈ ویلیو بڑھانے کی سمت میں ٹھوس پہل کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ یہ کانفرنس صنعت کاروں، سرمایہ کاروں، دستکاروں، زرعی و غذائی پیدا کاروں اور پالیسی سازوں کو ایک جامع اور ہمہ گیر پلیٹ فارم فراہم کرے گی، جہاں وہ پالیسی مراعات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، لاجسٹک سپورٹ اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گہرا تبادلہ خیال کریں گے۔ کپڑا اور ملبوسات، دستکاری، ایم ایس ایم ای، فوڈ پروسیسنگ، لاجسٹکس اور سیاحت جیسے متنوع شعبوں کی شمولیت اس تقریب کو کثیر جہتی بنائے گی۔ اس سے صنعت اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی مضبوط ہوگی اور سرمایہ کاری کے فیصلوں کو رفتار ملے گی۔
رابطہ عامہ افسر کے مطابق، کانفرنس میں منعقد ہونے والی نمائش میں مدھیہ پردیش کی او ڈی او پی مصنوعات، جی آئی ٹیگ دستکاری، روایتی ملبوسات، سرمایہ کاری کے امکانات، صنعتی صلاحیتوں اور اہم سیاحتی مقامات کو مربوط شکل میں پیش کیا جائے گا۔ یہ نمائش محض دکھاوے کا ذریعہ نہیں ہوگی، بلکہ سرمایہ کاروں اور شرکاء کے لیے ریاست کی حقیقی صلاحیتوں کو سمجھنے اور ان سے جڑنے کا موقع فراہم کرے گی۔ اس کے ذریعے مدھیہ پردیش کی معاشی اور ثقافتی تنوع کو ایک منظم اور موثر صورت میں سامنے لایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ مشترکہ آرٹیزن ورکشاپ میں چندیری اور مہیشوری دستکار بنارسی سلک کے کاریگروں کے ساتھ مل کر مشترکہ برانڈنگ، مارکیٹ کی توسیع اور ’’گنگا-نرمدا کرافٹ کوریڈور‘‘ کے تصور کو آگے بڑھائیں گے۔ یہ پہل روایتی دستکاری کو جدید مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور دستکاروں کو براہِ راست مارکیٹ فراہم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہوگی۔ اس سے نہ صرف دستکاری کو نئی پہچان ملے گی بلکہ کاریگروں کی آمدنی اور روزگار کے مواقع بھی مستحکم ہوں گے۔
رابطہ عامہ افسر کے مطابق، ٹورازم راونڈ ٹیبل میں کاشی-اجین-چترکوٹ مذہبی سیاحتی سرکٹ کو مشترکہ سیاحتی مصنوعات کے طور پر تیار کرنے پر تفصیل سے غور و خوض کیا جائے گا۔ اس پہل میں ٹور آپریٹرز اور آئی آر سی ٹی سی جیسے اہم اسٹیک ہولڈرز کی شرکت سے ایک منظم اور مربوط سیاحتی ماڈل تیار کرنے پر زور رہے گا۔ اس سے مذہبی سیاحت کو زیادہ منظم، آسان اور پرکشش بنایا جا سکے گا، جس سے دونوں ریاستوں میں سیاحوں کی تعداد اور قیام کی مدت میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی قیادت میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس سرمایہ کاری کی کشش، برآمدات کے فروغ، روزگار کی فراہمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے علاقائی ترقی کا ایک مضبوط ماڈل پیش کرے گی۔ ’’ایم پی-یوپی تعاون کانفرنس 2026‘‘ کے ذریعے مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے درمیان تعاون کو ایک مستقل، عملی اور نتیجہ خیز شکل ملے گی، جو دونوں ریاستوں کی معیشت کو نئی رفتار فراہم کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن