گیس کی قلت سے آٹو ڈرائیور پریشان، کرمن گھاٹ پر راستہ روکو احتجاج
حیدرآباد، 27 مارچ (ہ س)۔ گیس کی قلت سے عاجز و پریشان آٹو ڈرائیوروں نے کرمن گھاٹ کے علاقہ میں راستہ روکو احتجاج کرتے ہوئے کئی گھنٹے تک ٹریفک میں خلل پیدا کردیا اور گیس کی قلت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فوری طور پر گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطا
گیاس کی قلت سے آٹو ڈرائیورس پریشان ، کرمن گھاٹ پر راستہ روکو احتجاج


حیدرآباد، 27 مارچ (ہ س)۔ گیس کی قلت سے عاجز و پریشان آٹو ڈرائیوروں نے کرمن گھاٹ کے علاقہ میں راستہ روکو احتجاج کرتے ہوئے کئی گھنٹے تک ٹریفک میں خلل پیدا کردیا اور گیس کی قلت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فوری طور پر گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ بتایاجاتاہے کہ کئی گھنٹے تک گیس کے لئے قطار میں کھڑے ہونے کے بعد بھی گیس کے حصول میں ناکامی پر آٹو ڈرائیورس برہم ہوگئے اور اچانک احتجاج شروع کرتے ہوئے سڑک کے درمیان بیٹھ گئے۔ آٹو ڈرائیوروں نے الزام عائد کیا کہ گیس کی عدم سپلائی اور قلت کو چھپانے کے لئے عوام پر الزام عائد کیا جا رہاہے کہ وہ خوف کے عالم میں خریداری کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں قلت پیدا ہونے لگی ہے ۔ آٹوڈرائیوروں نے بتایا کہ ان کے اس احتجاج کا مقصد حکومت کی آٹو ڈرائیوروں کو ہونے والے مسائل پر متوجہ کروانا ہے کیونکہ 4 تا6 گھنٹے گیس کے لئے قطار میں کھڑے ہونے کے بعد وہ سواریوں کے لئے سڑکوں پر گھومنا پڑ رہا ہے اور سواریاں نہ ملنے کے نتیجہ میں انہیں شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کرمن گھاٹ پر آٹو ڈرائیوروں کے احتجاج کی اطلاع عام ہوتے ہی شہر حیدرآباد کے مختلف علاقو ں میں آٹو ڈرائیوروں نے راستہ روک کر احتجاج شروع کردیا لیکن ان احتجاجیوں کو پولیس کی جانب سے ہٹانے میں کوئی عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا بلکہ احتجاج میں شامل آٹو ڈرائیورس کی ویڈیو بنانے پر اکتفاء کرتے ہوئے انہیں سڑک سے ہٹانے اورگیس اسٹیشنوں سے بھی دور کرنے کے اقدامات کئے گئے۔ آٹو ڈرائیورس نے اس بات کی شکایت کی کہ رات کے اوقات میں گیس اسٹیشنوں پر خدمات کو معطل کرتے ہوئے انہیں رات بھر اپنے آٹو کے ساتھ قطار میں کھڑے ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے اور دن میں کئی کئی گھنٹوں تک قطار میں کھڑے رہنے کے بعد محدود گیس فروخت کی جار ہی ہے اور ٹینک مکمل پر کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے جو کہ ان کے لئے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہورہا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ کئی گیس اسٹیشنوں پر محض 500 روپئے کی گیس دی جا رہی ہے اور 5 گھنٹے قطار میں کھڑے ہونے کے بعد اگر اس مقدار میں گیس فراہم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ سواریوں کو لے جانے کے موقف میں بھی نہیں ہیں۔ آٹو ڈرائیورس کے احتجاج کے بعد کہا جا رہا ہے کہ دونوں شہروں میں عوامی برہمی کے پھوٹ پڑنے کے خدشات کے پیش نظر کئی علاقوں میں گیس اسٹیشنوں اور پٹرول پمپ مالکین نے رضاکارانہ طور پر خدمات کو معطل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کاروبار بند کر دیئے ہیں۔ پٹرول پمپ و گیس اسٹیشن ڈیلروں کا کہناہے کہ سپلائی حاصل نہ ہونے کے نتیجہ میں وہ فروخت سے قاصر ہیں اور صارفین سپلائی نہ ہونے پر ڈ یلرس کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande