
تہران، 26 مارچ (ہ س)۔ ایران نے چابہار کے علاقے میں ایک امریکی ایف-18 لڑاکا طیارہ مار گرایا، جس سے مغربی ایشیا میں 27 دن سے جاری جنگ میںمزید اضافہ ہوہوگیاہے۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے یہ دعویٰ کیا ہے۔
آئی آر جی سی نے کہا کہ اس نے ایرانی فضائی حدود میں گھسنے والے ایک اور امریکی ایف-18 لڑاکا طیارے کو مار گرایا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، 28 فروری کے بعد یہ چوتھا امریکی لڑاکا طیارہ ہے جسے نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کی ملکیت میں ایران کے سرکاری میڈیا آو¿ٹ لیٹ پریس ٹی وی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق،آئی آر جی سی کے شعبہ تعلقات عامہ نے بدھ کے روز اطلاع دی کہ فضائی دفاعی یونٹس نے کامیاب آپریشن کیا۔
ایک بیان میں، آئی آر جی سی نے کہا کہ اس نے ملک کی فضائی حدود میں گھسنے والے ایک طیارے کو روک کر مار گرایا۔ دشمن کے طیارے کو جنوبی ایران پر منڈلاتے ہوئے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔
ایرانی مسلح افواج نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر 80 سے زیادہ مراحل میں درستگی سے چلنے والے میزائلوں اور جدید ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔
دریں اثنا، امریکہ نے ان دعوو¿ں کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایران کا دعویٰ غلط ہے اور کسی امریکی لڑاکا طیارے کو نقصان نہیں پہنچا۔ یہ ردعمل خاص طور پر آئی آر جی سی کے اس اعلان کے حوالے سے دیا گیا ہے کہ چابہار پر ایف-18 طیارے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
سینٹ کام نے اس سلسلے میں حقائق کی جانچ پڑتال کا گرافک بھی جاری کیا ہے، جس میں ایران کے سرکاری میڈیا کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعلان آئی آر جی سی کی جانب سے دعوے کو آن لائن نشر کرنے کے چند منٹ بعد سامنے آیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ چابہار کا علاقہ ایران کے جنوب مشرقی ساحل پر صوبہ سیستان اور بلوچستان کے اندر خلیج عمان کے منہ پر واقع ہے۔ یہ ایران کی واحد گہرے پانی کی بندرگاہ ہے اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔
دریں اثنا، اس واقعے میں تقریباً 20 امریکی لڑاکا طیاروں میں سے ایک شامل ہے جو اس تنازعے کے دوران تباہ ہو چکے ہیں — جو کہ تقریباً تین ہفتوں سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری ہے۔
اس سے پہلے 2 مارچ کو خلیج فارس کے اوپر تین امریکی ایف-15ای لڑاکا طیارے مار گرائے گئے تھے۔ مزید برآں، 12 مارچ کو، ایک کے سی-135 اسٹریٹوٹینکر مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیاتھا، جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار عملے کے تمام چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک اور کے سی-135 طیارے کو شدید نقصان پہنچا لیکن وہ بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں اعتراف کیا کہ سعودی عرب پر ایرانی حملوں کے دوران کم از کم ایک کے سی-135 طیارے کو نقصان پہنچا ہے۔
مزید برآں، تقریباً ایک درجن ایم کیو-9 ریپر ڈرون تباہ کیے گئے ہیں، جن میں سے کچھ کو ایرانی فورسز نے زمین پر رہتے ہوئے نقصان پہنچایا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی