
تہران، 26 مارچ (ہ س)۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے جزیرہ خارگ پر حملہ کیا تو وہ جنگ میں ایک نیا محاذ کھول دے گا اور انتہائی اہمیت کے حامل بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والے آبنائے باب المندب تجارتی راستے میں رخنہ ڈالے گا۔ اس کے علاوہ، حوثی باغی گروپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایرانی حکومت کو مدد کی ضرورت پڑی تو وہ 20 میل چوڑے اس آبنائے باب المندب پر قبضہ کرنے میں ایرانی حکومت کی مدد کریں گے۔
آبنائے ہرمز کے متاثر ہونے سے دنیا کی تیل کی سپلائی کے 20 فیصد پر عالمی اثرات نظر آ رہے ہیں۔ آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے۔ دنیا کی سمندری تیل کی ترسیل کا تقریباً 12فیصد ہر سال اس سے گزرتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کو بتایا کہ اگر امریکہ ایرانی جزائر یا زمین پر کہیں بھی کارروائی کرنے کی کوشش کرتا ہے یا خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں بحری سرگرمیوں کے ذریعے ایران کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو ہم ان کے لیے دوسرے محاذ کھول دیں گے۔ ان کارروائی سے کوئی فائدہ تو نہیں ہوگابلکہ مشکلات دوگنی ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے باب المندب کو دنیا کے سب سے اسٹریٹجک آبنائے میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور ایران کے پاس اس کے خلاف مکمل طور پر قابل اعتماد خطرے کا مقابلہ کرنے کی آمادگی اور صلاحیت دونوں ہے۔ اس لیے اگر امریکہ آبنائے ہرمز کے حل پر غور کر رہا ہے تو اسے محتاط رہنا چاہیے کہ اس کے مسائل اور مشکلات میں ایک اور آبنائے کا اضافہ نہ ہو۔ آبنائے باب المندب یمن کے جنوب مغرب میں واقع ہے جہاں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی موجود ہیں۔
دریں اثنا، حوثی باغی گروپ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایرانی حکومت کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران مدد کی ضرورت پڑی تو وہ 20 میل چوڑے آبنائے باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے میں مدد کریں گے، یہ اقدام بحیرہ احمر کے راستے ٹریفک میں خلل ڈالے گا، جہاں سے ہر سال 1 ٹریلین ڈالر کا سامان گزرتا ہے۔ حوثیوں نے دو سال سے زیادہ عرصے سے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں پر حملے کیے تھے۔
ایران کی یہ دھمکیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ فوج کے 82 ویں انفنٹری ڈویژن سے 3000 فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ فوجی تین جنگی جہازوں پر تعینات تقریباً 2500 میرینز کے ساتھ شامل ہوں گے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ، خواہ ایران ہو یا جزیرہ خارگ،خطے میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ایسا کرنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ جزیرہ خارگ جو ایرانی ساحل سے تقریباً 16 میل دور واقع ہے، ایران کی خام تیل کی 90 فیصد برآمدات کو کنٹرول کرتا ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد