تاریخ میں پہلی بار بی جے پی حکومت نے دہلی کو بنا دیا 20ہزار کروڑ کا قرضدار : سوربھ بھاردواج
نئی دہلی، 25مارچ(ہ س)۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے گزشتہ سال پیش کیے گئے دہلی بجٹ میں بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت کی مبینہ دھاندلی کا پردہ فاش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی تاریخ میں پہلی بار بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت نے د
تاریخ میں پہلی بار بی جے پی حکومت نے دہلی کو بنا دیا 20ہزار کروڑ کا قرضدار : سوربھ بھاردواج


نئی دہلی، 25مارچ(ہ س)۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے گزشتہ سال پیش کیے گئے دہلی بجٹ میں بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت کی مبینہ دھاندلی کا پردہ فاش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی تاریخ میں پہلی بار بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت نے دہلی کے عوام پر تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے کا قرض چڑھا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ریکھا گپتا حکومت نے واہ واہی لوٹنے کے لیے بڑھا چڑھا کر ایک لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا، مگر حقیقت میں صرف 68,700 کروڑ روپے ہی جمع ہو سکے۔ اس کے علاوہ حکومت کو مرکزی حکومت سے 12,095 کروڑ روپے بطور گرانٹ لینے پڑے۔ اس طرح کل ملا کر حکومت تقریباً 81,545 کروڑ روپے ہی جمع کر سکی اور تقریباً 19 ہزار کروڑ روپے کا خسارہ ہوا۔ اسی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو مارکیٹ سے 16,700 کروڑ روپے اور مرکزی حکومت سے 2,500 کروڑ روپے قرض لینا پڑا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اگلے سال دہلی پر مزید 23 ہزار کروڑ روپے کا قرض ہو جائے گا اور پانچ سال میں یہ قرض ایک لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جب گزشتہ سال پہلی بار ریکھا گپتا حکومت نے بجٹ پیش کیا تھا تو پورے دہلی میں بڑے بڑے ہورڈنگز لگائے گئے اور ٹی وی و اخبارات میں زبردست تشہیر کی گئی کہ یہ ایک لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ ہے۔ اس وقت بھی عام آدمی پارٹی نے سوالات اٹھائے تھے کہ آخر یہ ایک لاکھ کروڑ روپے کہاں سے آئیں گے؟ کیونکہ خرچ کرنے کے لیے پہلے آمدنی کا ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اب واضح ہو گیا ہے کہ حکومت نے ایک لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی کا جو ہدف رکھا تھا وہ پورا نہیں ہو سکا۔ ریاست کا اپنا ٹیکس ریونیو صرف 68,700 کروڑ روپے رہا، یعنی 30 فیصد سے زیادہ کی کمی رہی۔ مرکز سے 12,095 کروڑ روپے گرانٹ کے طور پر ملے۔ ان سب کو ملا کر کل 81,545 کروڑ روپے بنتے ہیں، جبکہ بجٹ ایک لاکھ کروڑ روپے کا تھا۔ باقی 19 ہزار کروڑ روپے کہاں سے آئے، یہ بات حکومت چھپا رہی ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے دہلی کی تاریخ میں پہلی بار دہلی کو قرض میں ڈال دیا ہے اور آنے والی نسلوں پر بوجھ ڈال دیا ہے۔ حکومت نے کھلے بازار سے 16,700 کروڑ روپے اور مرکز سے تقریباً 2,500 کروڑ روپے قرض لیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ محض دکھاوا اور بے بنیاد تھا، کیونکہ حکومت کے پاس اتنی رقم جمع کرنے کا کوئی واضح نظام نہیں تھا۔ اسی لیے تقریباً 20 فیصد بجٹ قرض لے کر چلایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس سال بھی حکومت نے 1 لاکھ 3 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگلے سال دہلی پر مزید تقریباً 23 ہزار کروڑ روپے کا قرض چڑھ سکتا ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو پانچ سال میں دہلی حکومت تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کے قرض میں ڈوب جائے گی۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اس حکومت نے دہلی کے قانون میں بھی تبدیلی کر دی۔ پہلے قانون کے مطابق دہلی کا بجٹ خسارے میں نہیں جا سکتا تھا، مگر 2025 میں مرکز کے ساتھ مل کر اس قانون میں ترمیم کی گئی اور قرض لینے کی اجازت دے دی گئی۔ اگر واقعی یہ ٹرپل انجن حکومت تھی تو مرکز اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کو دہلی کو مالی مدد دینی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہر ماہ 2500 روپے دینے کے لیے 5100 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، مگر یہ رقم دی ہی نہیں گئی۔ حکومت نے بڑی تعداد میں لوگوں کی پنشن بند کر دی، جن میں بیواوں اور بزرگوں کی پنشن بھی شامل ہے۔ تقریباً آٹھ لاکھ لوگوں کے راشن کارڈ منسوخ کر دیے گئے اور سینکڑوں لوگوں کو ڈی ٹی سی اور اسپتالوں سے نوکریوں سے نکال دیا گیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پینشن، راشن اور دیگر اخراجات کم کیے جا رہے ہیں تو پھر یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ کوئی نمایاں ترقی بھی نظر نہیں آ رہی۔ حکومت ایک طرف 20 ہزار کروڑ روپے کا قرض لے رہی ہے اور دوسری طرف عوامی سہولتوں میں کٹوتی کر رہی ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ عام آدمی پارٹی کا سوال ہے اور امید ہے کہ دہلی کے عوام اس کا جواب ریکھا گپتا حکومت اور اس کے وزراءسے ضرور طلب کریں گے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande