
ممبئی، 24 مارچ (ہ س)۔ ستارا ضلع پریشد کے انتخاب کے دوران ہوئے ہنگامے کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں بیان بازی تیز ہو گئی ہے، آج اس ضمن میں شیو سینا (ٹھاکرے گروپ) کے رہنما سنجے راؤت نے حکومت اور وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ ستارا میں جو کچھ ہوا وہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ریاست میں بڑھتی ہوئی جھُنڈ شاہی اور غنڈہ گردی کی علامت ہے، اور اس کے پیچھے حکومتی سرپرستی کا شبہ ظاہر کیا۔ راؤت نے الزام لگایا کہ اقتدار کے زور پر نہ صرف مخالفین بلکہ اتحادیوں کو بھی دبایا جا رہا ہے، اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے شندے گروپ کے وزراء پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خود کو اصولوں کے لیے لڑنے والا بتاتے تھے، وہ اب عملی طور پر کمزور نظر آ رہے ہیں اور عوام کے سامنے ان کی حقیقت آشکار ہو رہی ہے۔سنجے راؤت نے کہا کہ اگر ایک وزیر کو بھی پولیس کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو یہ قانون و انتظامیہ پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے، اور اس کے لیے حکومت کو جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے دیویندر فڑنویس پر براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حمایت کے بغیر ایسا واقعہ ممکن نہیں تھا، اور پولیس کے کردار پر بھی شک ظاہر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہی حالات برقرار رہے تو حکومت کے اتحادی زیادہ عرصہ ساتھ نہیں رہ سکیں گے اور سیاسی طور پر نئی صف بندیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ ستارا واقعے کے بعد ریاست کی سیاست میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کا کیا اثر ہوگا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے