تیرہ سال سے کوما میں پڑے ہریش رانا کو ملی اختیاری موت، ایمس میں لی آخری سانس
نئی دہلی، 24 مارچ (ہ س)۔ ملک میں غیر فعال اختیاری موت (پیسِو یوتھینیشیا) کی اجازت پانے والے پہلے شخص ہریش رانا کا منگل کو دہلی کے ایمس میں انتقال ہو گیا۔ ایمس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہریش رانا نے شام 4 بج کر 10 منٹ پر آخری سانس لی۔ وہ و
تیرہ سال سے کوما میں پڑے ہریش رانا کو ملی اختیاری موت، ایمس میں لی آخری سانس


نئی دہلی، 24 مارچ (ہ س)۔ ملک میں غیر فعال اختیاری موت (پیسِو یوتھینیشیا) کی اجازت پانے والے پہلے شخص ہریش رانا کا منگل کو دہلی کے ایمس میں انتقال ہو گیا۔ ایمس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہریش رانا نے شام 4 بج کر 10 منٹ پر آخری سانس لی۔ وہ وقف شدہ ڈاکٹروں کی ٹیم کی نگرانی میں تھے اور انہیں آنکو-اینستھیزیا شعبہ کی سربراہ ڈاکٹر (پروفیسر) سیما مشرا کی قیادت میں پیلی ایٹو آنکولوجی یونٹ (آئی آر سی ایچ) میں داخل کیا گیا تھا۔

ایمس نے ہریش رانا کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

ہریش رانا کا معاملہ ملک میں ’وقار کے ساتھ مرنے کے حق‘ (رائٹ ٹو ڈائی ود ڈگنٹی) پر ایک تاریخی فیصلہ مانا گیا تھا۔ ہریش رانا کو سپریم کورٹ نے 11 مارچ کو خصوصی اجازت دیتے ہوئے ان کی باوقار موت کے لیے ایمس انتظامیہ کو لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت دی تھی۔

ہریش رانا 13 سال پہلے ایک حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔ چندی گڑھ واقع پنجاب یونیورسٹی میں بی ٹیک کی تعلیم حاصل کر رہے ہریش رانا 20 اگست 2013 کو ہاسٹل کی چوتھی منزل سے گر گئے تھے۔ اس کے بعد سے وہ کوما میں چلے گئے تھے۔ خاندان والوں نے بھرپور علاج کرایا لیکن ان کی صحت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ وہ 13 سال تک بستر پر ہی لائف سپورٹ سسٹم کے سہارے زندہ رہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande