ایران نے مذاکرات کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کر دیا
تہران، 23 مارچ (ہ س)۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی بامعنی مذاکرات کے دعوو¿ں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ ایران نے امریکی تجاویز اور بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہو
ایران نے مذاکرات کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کر دیا


تہران، 23 مارچ (ہ س)۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی بامعنی مذاکرات کے دعوو¿ں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ ایران نے امریکی تجاویز اور بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاور پلانٹس پر حملے کو پانچ دن کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان محض ایک اسٹریٹجک اقدام ہے، جس کا مقصد جنگ کے درمیان وقت حاصل کرنا اور توانائی کی عالمی منڈیوں کو متاثر کرنا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ نے ایران ملٹری نیوز کی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہم ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ مذاکرات جاری ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جنگی مقاصد کے حصول تک کسی قسم کے مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے الفاظ اپنی سابقہ دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہیں، لیکن ایران کا مو¿قف بدستور برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہم اس راستے کو دوبارہ بند کر دیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے ایرانی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ ٹرمپ کے تبصروں کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے وقت خریدنا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقائی ممالک کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کچھ پہل کر رہے ہیں، لیکن ان کے خدشات واشنگٹن کے ساتھ اٹھائے جانے چاہئیں، جو جنگ شروع کرنے والا فریق ہے۔ ایران نے یہ بھی کہا کہ یہ جنگ ان پر اور خطے پر مسلط کی گئی ہے۔ جنگ کا خاتمہ امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ اور اسرائیل اگلے پانچ دنوں تک ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملہ نہیں کریں گے۔ سوشل میڈیا پر اس کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ یہ فیصلہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والی ’اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت‘ کے بعد کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے لکھا کہ مشرق وسطیٰ میں باہمی دشمنی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے گہری، تفصیلی اور تعمیری بات چیت ہفتوں تک جاری رہے گی۔ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا، مجھے خوشی ہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران، امریکہ اور ایران کے درمیان ہماری باہمی دشمنی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے حوالے سے بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔ ان گہری، تفصیلی اور تعمیری بات چیت کے پیش نظر، میں نے محکمہ جنگ کو ایرانی پاور پلانٹس اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر ہونے والے تمام حملوں کو معطل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ٹرمپ نے اس سے قبل ہفتے کے روز ایران کے پاور پلانٹس پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تہران نے 48 گھنٹوں کے اندر بغیر کسی دھمکی کے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ نہ کھولا تو امریکا ایران کے مختلف پاور پلانٹس پر حملہ کر کے تباہ کر دے گا۔قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی سینئر رہنما اور اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande