ٹرمپ نے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملہ پانچ دنوں کے لیے ملتوی کر دیا
واشنگٹن، 23 مارچ (ہ س) ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو مغربی ایشیا میں جاری فوجی تنازعہ کے درمیان ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملہ کرنے کے اپنے منصوبے کو پانچ دن کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں
ٹرمپ نے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملہ پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیا


واشنگٹن، 23 مارچ (ہ س) ۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو مغربی ایشیا میں جاری فوجی تنازعہ کے درمیان ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملہ کرنے کے اپنے منصوبے کو پانچ دن کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی ایران کے ساتھ اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے اور وہ اپنی فوج کو حکم دیں گے کہ وہ ایرانی پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی فوجی حملے کو ملتوی کرے۔ ٹرمپ نے کہا، مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں ہماری باہمی دشمنی کے مکمل خاتمے کے حوالے سے گزشتہ دو دنوں میں بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ میں نے محکمہ جنگ کو ایرانی پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے تمام فوجی حملے پانچ دنوں کے لیے ملتوی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس فیصلے کا انحصار جاری ملاقاتوں اور بات چیت کی کامیابی پر ہو گا ۔

ٹرمپ کا پیغام 48گھنٹے کی اس وقت مقررہ کی حد ختم ہونے پر آیا ہے جو انہوں نے ایران پر لگائی تھی ۔اس حد کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے جہازوں کے محفوظ گزرنے کی اجازت دینا تھی یا پھر اپنے پاور پلانٹ پر حملوں کا سامنا کرنا پڑتا جو کہ ایک بڑا تنازع کو جنم دے سکتا تھا۔

ٹرمپ نے اتوار کو دھمکی دی تھی کہ اگر بحری جہازوں پر ایرانی گولہ باری کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند رہا تو امریکا 48 گھنٹوں کے اندر ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔ ان کا الٹی میٹم آج ختم ہو رہا تھا۔

ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران نے خلیجی خطے اور اسرائیل میں توانائی اور تیل کے پلانٹس پر حملوں کا اعلان کیا۔ ایران نے یہ بھی کہا کہ وہ اس آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کر دے گا جس سے دنیا کاکل پانچواں حصہ تیل کا گزرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande