
منڈلا، 22 مارچ (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے منڈلا ضلع میں بیجادانڈی تھانہ علاقہ کے تحت بھینس واہی اور ٹکرا ٹولا کے درمیان ہفتہ کی رات ایک تیز رفتار بائک خستہ حال پلیا سے نیچے گر گئی۔ اس حادثے میں بائک سوار چار نوجوانوں کی موت ہو گئی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی بیجادانڈی پولیس نے موقع پر پہنچ کر جانچ شروع کر دی ہے۔
معلومات کے مطابق، منڈلا-جبل پور نیشنل ہائی وے پر ہفتہ کی رات ایک ہی بائک پر سوار چار نوجوان کافی تیز رفتاری سے جا رہے تھے۔ اسی دوران بیجادانڈی تھانہ علاقے کے گرام بھینس واہی کے پاس کالپی نواس روڈ پر بائک بے قابو ہو گئی اور سیدھے پلیا کے نیچے جا گری۔ حادثے میں بائک کے پرکھچے اڑ گئے اور چاروں نوجوانوں نے جائے وقوعہ پر ہی دم توڑ دیا۔ مقامی لوگوں کی اطلاع پر پہنچی پولیس نے لاشوں کو اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
بیجادانڈی تھانہ انچارج انیتا کڈاپے نے بتایا کہ متوفین کی شناخت پرمود کمار نریتی (24) رہائشی رمتیلا، بیجادانڈی، سنت لال اوئیکے (23) رہائشی گرام بستری، شیوم یادو (17) رہائشی ٹکریا، اصل رہائشی بچھیا کوری اور گنگا رام اوئیکے (22) رہائشی ٹکریا کے طور پر ہوئی ہے۔ اتوار کو بیجادانڈی ہیلتھ سینٹر میں پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ ابتدائی جانچ میں حادثے کی وجہ تیز رفتاری اور بائک کا بے قابو ہونا مانا جا رہا ہے۔ پولیس معاملے کی تفصیلی جانچ کر رہی ہے۔
ادھر، مقامی لوگوں نے وزیراعظم گرام سڑک ڈپارٹمنٹ پر سنگین لاپرواہی کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پلیا گزشتہ برسات میں ٹوٹ گئی تھی، لیکن اس کی تعمیر یا مرمت اب تک نہیں کرائی گئی۔ حادثے کے وقت پلیا کے دونوں طرف نہ تو بیریکیڈنگ کی گئی تھی اور نہ ہی کوئی وارننگ بورڈ لگایا گیا تھا۔ اندھیرے میں تیز رفتار بائک سوار نوجوان پلیا سے نیچے گر گئے۔ وہ نیچے رکھے سیمنٹ پائپ سے ٹکرا گئے، جس سے چاروں کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
بھینس واہی کے رہائشی ننھے سنگھ پرتے نے بتایا کہ پلیا ٹوٹنے کے بعد کئی بار شکایتیں کی گئیں، جس میں 181 ہیلپ لائن پر اطلاع دینا بھی شامل ہے، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ گاوں والوں نے ہی آمد و رفت کے لیے عارضی راستہ بنایا تھا۔ ٹکرا ٹولا کے رہائشی انل دھروے نے بھی حادثے کو محکمانہ لاپرواہی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے جلد سے جلد پلیا کی مرمت کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن