ڈیاگو گارشیا بیس پر حملہ تہران کی تزویراتی صلاحیتوں میں بڑی تبدیلی کا مظہر
واشنگٹن ،22مارچ(ہ س)۔عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی جزیرے ڈیاگو گارشیا پر ایرانی میزائل حملے کے بعد یورپ کے لیے ایرانی خطرہ مفروضے سے نکل کر حقیقت بن گیا ہے۔ یہ بیس امریکہ اور برطانیہ کی مشترکہ عسکری تنصیب ہے اور ایران سے اس کا فاصلہ تقریباً ات
ڈیاگو گارشیا بیس پر حملہ تہران کی تزویراتی صلاحیتوں میں بڑی تبدیلی کا مظہر


واشنگٹن ،22مارچ(ہ س)۔عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی جزیرے ڈیاگو گارشیا پر ایرانی میزائل حملے کے بعد یورپ کے لیے ایرانی خطرہ مفروضے سے نکل کر حقیقت بن گیا ہے۔ یہ بیس امریکہ اور برطانیہ کی مشترکہ عسکری تنصیب ہے اور ایران سے اس کا فاصلہ تقریباً اتنا ہی ہے جتنا لندن اور پیرس کا ہے۔انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک اسٹڈیز میں عسکری ہوا بازی کے ماہر ڈوگلس بیری نے امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کو بتایا کہ ایرانی میزائل حملے نے تہران کے میزائل ہتھیاروں کے خطرے کو امکان کے دائرے سے نکال کر عملی حقیقت میں بدل دیا ہے۔انہوں نے اشارہ کیا کہ اگرچہ تہران نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ یہ حملہ یورپ کے لیے ایک پیغام تھا، لیکن بعض یورپی حکومتیں اس کی یہی تشریح کر سکتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ آپریشن کئی یورپی دارالحکومتوں میں طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بیری کے مطابق یہ پیش رفت یورپی ممالک پر بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے دباو¿ بڑھائے گی، یہ وہ رجحان ہے جو یوکرین پر روسی حملوں کے بعد پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی عسکری انٹیلی جنس میں ایران ڈیسک کے سابق سربراہ ڈانی سیٹرینووچ نے کہا کہ ڈیاگو گارشیا بیس پر حملہ یورپ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ظاہر کرنے میں تہران کی بڑھتی ہوئی جرات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ضرب جو ایران سے تقریباً 2500 میل کے فاصلے پر لگائی گئی، ملک کی اب تک کی ریکارڈ شدہ طویل ترین میزائل کارروائی ہے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ اس میں استعمال ہونے والے میزائل طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا ہی ترمیم شدہ ویرڑن ہیں، جن کا وزن کم کر کے ان کی حدِ رفتار (رینج) بڑھائی گئی ہے۔انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے محقق سیٹرینووچ کے خیال میں ایران کی صلاحیتوں کا یہ مظاہرہ جنگ کے آغاز سے پہلے کی صورتحال کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ ان کے ملک نے جان بوجھ کر اپنے میزائلوں کی حد 1250 میل تک محدود رکھی ہے۔اگرچہ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ عسکری مہم نے ایران کی جارحانہ صلاحیتوں کو کمزور کر دیا ہے، تاہم اس حملے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ وہ صلاحیتیں اب بھی موجود ہیں۔ سیٹرینووچ نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہاکہ یہ فرض کرنا ضروری ہے کہ ایرانی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دباو¿ کے باوجود اب بھی فعال ہے اور اس کے پاس تزویراتی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کی صلاحیت موجود ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande