
تہران،22مارچ(ہ س)۔ایرانی رکن پارلیمنٹ علاوالدین بروجردی نے آج سرکاری ٹی وی پر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کچھ بحری جہازوں سے ایران کی جانب سے ’20 لاکھ ڈالر فیس‘ وصول کی جا رہی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ آبنائے میں ایک ’نئی انتظامیہ‘ مسلط کی جا رہی ہے اور ’جنگ کی کچھ قیمت ہوتی ہے‘۔ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ یہ ’ایران کے اختیار اور حق‘ کو ظاہر کرتا ہے۔بی بی سی ایرانی رکن پارلیمنٹ کے آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کیے جانے کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری خبر خبررساں ایجنسی مہر کے مطابق اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں ایران کے نمائندے کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ’ایران کے دشمنوں‘ سے منسلک جہازوں کے علاوہ تمام جہازوں کے لیے کھلا ہے۔ایرانی نمائندے علی موسوی کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ حفاظتی انتظامات کے متعلق رابطہ قائم کر کے اس آبی گزرگاہ سے گزرنا ممکن ہے۔موسوی کا کہنا ہے کہ ’سفارت کاری ایران کی ترجیح ہے۔ تاہم، جارحیت کا مکمل خاتمہ نیز باہمی اعتماد کی بحالی زیادہ اہم ہے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی حملے ’آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کی جڑ‘ ہے۔یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اسرائیل کے نتیجے میں میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے ایران وقتاً فوقتاً حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan