امریکہ کسی بھی وقت ایرانی جزیرہ خارگ کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے: وائٹ ہاوس کا دعویٰ
واشنگٹن،21مارچ(ہ س)۔وہائٹ ہاو¿س نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اگر چاہے تو وہ کسی بھی وقت ایرانی جزیرہ خارگ کا کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بیان ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس علاقے پر قب
امریکہ کسی بھی وقت ایرانی جزیرہ خارگ کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے: وائٹ ہاوس کا دعویٰ


واشنگٹن،21مارچ(ہ س)۔وہائٹ ہاو¿س نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اگر چاہے تو وہ کسی بھی وقت ایرانی جزیرہ خارگ کا کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بیان ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس علاقے پر قبضے یا اس کے محاصرے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے، جہاں سے ایران کی خام تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیس‘ کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاو¿س کی نائب ترجمان آنا کیلی نے ’اے ایف پی‘ کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ اگر صدر حکم دیں تو امریکی فوج کسی بھی وقت جزیرہ خارگ پر قبضے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس سے قبل ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے اوپر اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور جہاز رانی کے تحفظ کے لیے وہاں جنگی جہاز بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ وہ پینٹاگان کے منصوبے کے تحت ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنانے کے لیے حملہ آور طیارے اور اپاچی ہیلی کاپٹر استعمال کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن تجارتی نقل و حمل کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تمہید کے طور پر کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔دوسری جانب امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل تیار کرنے والے خارگ پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ فیکٹری ان بیلسٹک میزائلوں کی اسمبلی کے لیے استعمال کی جا رہی تھی جو امریکیوں، خطے کے ممالک اور تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ سنہ 2026ءمیں یکم مارچ کو لی گئی تصاویر میں حملوں سے قبل کی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ اسی ماہ کی 11 تاریخ کی تصاویر سے واضح ہوتا ہے کہ درست نشانے پر لگنے والے گولہ بارود نے تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے، جہاں سے دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس صورتحال نے سپلائی میں کمی کے خدشات پیدا کر دیے ہیں اور قیمتوں کو اس سطح پر پہنچا دیا ہے جو گذشتہ دو سالوں میں نہیں دیکھی گئی تھی۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی سیاسی رہنماوں کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں، کیونکہ اس سے افراط زر میں اضافے کا خدشہ ہے جو کم آمدنی والے خاندانوں پر بوجھ بن سکتا ہے۔منگل کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن کو حکم دیا کہ وہ خلیج کے راستے ہونے والی تمام سمندری تجارت کے لیے سیاسی خطرات کے خلاف انشورنس فراہم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ ضرورت پڑنے پر جلد از جلد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی اسکارٹنگ (حفاظتی ہمراہی) شروع کر دے گی۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande