
واشنگٹن،21مارچ(ہ س)۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو ایرانی رجیم کے مستقبل کے حوالے سے باہم دست و گریبان ہیں۔ امریکی حکام نے اخبار کو بتایا کہ امریکی صدر ایران میں نظام کی تبدیلی کے خواہاں نہیں ہیں۔
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے گذشتہ روز جمعرات کو کہا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی مہم میں امریکہ اور اسرائیل کے مقاصد میں فرق ہے؛ تل ابیب کی توجہ ایرانی قیادت کو مفلوج کرنے پر ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کی بحری قوت کو تباہ کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی میں عالمی خطرات سے متعلق سالانہ سماعت کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ صدر کی جانب سے مقرر کردہ اہداف اسرائیلی حکومت کے اہداف سے جدا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کارروائیوں کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت ایرانی قیادت کی صلاحیتوں کو ختم کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ صدر نے بیلسٹک میزائل داغنے اور ان کی تیاری کی صلاحیت سمیت بحری طاقت کے خاتمے کو ہدف بنایا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے بارہا ایران پر اپنے مشترکہ فضائی حملوں میں قریبی ہم آہنگی کا اظہار کیا ہے، لیکن دونوں جانب کے حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے مقاصد ایک جیسے نہیں ہیں۔ تنازعے کے تین ہفتے مکمل ہونے کے قریب ہیں اور اسرائیل کی غارت گری کے نتیجے میں کئی ایرانی عسکری و سیاسی رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکہ نے اپنی توجہ میزائل پروگرام سے وابستہ مقامات کو نشانہ بنانے پر رکھی ہوئی ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کے درمیان یہ خلیج بدھ کے روز اس وقت نمایاں ہوئی جب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ واشنگٹن کو جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ اس حملے کے بعد ایران نے قطر میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اسرائیل اس فیلڈ پر دوبارہ حملہ نہیں کرے گا جب تک کہ ایران دوبارہ قطر پر حملہ نہ کرے۔ ایران کے خلاف جاری 20 روزہ جنگ میں پارس فیلڈ پر حملے کے فیصلے کے حوالے سے امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے بیانات میں تضاد اب تک کا سب سے بڑا اختلاف رائے ہے۔
گذشتہ روز بنجمن نیتن یاھو نے ایک ٹیلی ویڑن پریس کانفرنس میں جنگی حکمت عملی پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی اختلاف کی تردید کی، تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تل ابیب نے پارس فیلڈ پر حملے کے وقت تنہا کارروائی کی تھی۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کنہی دو رہنماو¿ں نے صدر ٹرمپ اور مجھ سے بہتر ہم آہنگی دکھائی ہوگی۔ انہوں نے ان خبروں کو فیک نیوز قرار دیا کہ اسرائیل نے کسی نہ کسی طرح امریکہ کو ایران کے ساتھ تنازع میں گھسیٹا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی کوئی یہ سمجھتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو یہ بتایا جا سکتا ہے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے؟اسرائیلی وزیراعظم نے یاد دلایا کہ ایران پر حملے کے تین مقاصد ہیں: ایران کے ایٹمی پروگرام کی تباہی، اس کے بیلسٹک پروگرام کا خاتمہ جو اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ایسے حالات پیدا کرنا کہ ایرانی عوام خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کر سکیں۔
جنگ کے آغاز کے ابتدائی گھنٹوں میں تہران پر اسرائیلی حملوں میں ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے جن کی جگہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سنبھالی ہے۔ اسرائیلی رہنماو¿ں نے دوبارہ اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ تہران میں حکمران عہدیداروں کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ بنجمن نیتن یاھو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ایرانی نظام ہار مان رہا ہے؟ جی ہاں، بہت سے اشارے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے تو واقعی معلوم نہیں کہ اب ایران کی قیادت کون کر رہا ہے کیونکہ اقتدار کے دعویداروں کے درمیان شدید تناو¿ ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan