اے بی وی پی نے جموں یونیورسٹی میں محمد علی جناح کو نصاب میں شامل کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔
جموں, 20 مارچ (ہ س)۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے جمعہ کے روز جموں یونیورسٹی میں احتجاج کرتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت نظرثانی شدہ پوسٹ گریجویٹ پولیٹیکل سائنس کے نصاب میں محمد علی جناح سے متعلق باب کو شامل کرنے پر اس ک
Protest


جموں, 20 مارچ (ہ س)۔

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے جمعہ کے روز جموں یونیورسٹی میں احتجاج کرتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت نظرثانی شدہ پوسٹ گریجویٹ پولیٹیکل سائنس کے نصاب میں محمد علی جناح سے متعلق باب کو شامل کرنے پر اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔یونیورسٹی انتظامیہ نے اس شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ موضوع یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے رہنما اصولوں کے مطابق ہے اور ملک کی متعدد جامعات کے نصاب کا حصہ بھی ہے۔اے بی وی پی کے جموں و کشمیر کے سکریٹری سنک شریواستو کی قیادت میں کارکنان یونیورسٹی کیمپس میں جمع ہوئے، انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور ماڈرن انڈین پولیٹیکل تھاٹ ماڈیول کے تحت “اقلیتیں اور قوم” پیپر سے محمد علی جناح سے متعلق باب کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے جناح کے پوسٹر بھی پھاڑ دیے اور خبردار کیا کہ مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کو مزید تیز کیا جائے گا۔

اے بی وی پی کے ایک رہنما نے کہا کہ 2026 تا 2028 کے نصاب میں بعض شخصیات کو اقلیتوں کے نمائندے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جن میں سر سید احمد خان اور محمد علی جناح شامل ہیں، جو تقسیم ہند اور دو قومی نظریے سے وابستہ رہے ہیں، اس لیے ان پر تعلیم دینا باعث تشویش ہے۔سنک شریواستو نے کہا کہ تعلیمی آزادی قومی جذبات پر غالب نہیں ہونی چاہیے اور اس شمولیت کو طلبہ کے لیے ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو تنظیم پورے جموں و کشمیر میں وسیع احتجاج شروع کرے گی۔احتجاج کے جواب میں شعبہ پولیٹیکل سائنس کے سربراہ بلجیت سنگھ مان نے کہا کہ نصاب خالصتاً تعلیمی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے اور جدید ہندوستان کے مختلف سیاسی افکار کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ماڈیول میں محمد علی جناح، سر سید احمد خان اور علامہ محمد اقبال سمیت دیگر مفکرین کو پڑھایا جاتا ہے، جبکہ ونایک دامودر ساورکر، ایم ایس گولوالکر، مہاتما گاندھی، بی آر امبیڈکر، جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل بھی نصاب کا حصہ ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کسی خاص نظریے کی ترویج نہیں کرتی بلکہ طلبہ کو تنقیدی تجزیے کے لیے مختلف نقطہ نظر فراہم کرتی ہے۔ یہ ایک تعلیمی عمل ہے،اور کی نظریے کی حمایت نہیں ہے۔بلجیت سنگھ مان نے مزید کہا کہ ایسے موضوعات کو نصاب سے نکالنا نیشنل ایلیجبلٹی ٹیسٹ (نیٹ) جیسے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ مواد یو جی سی کے نصاب میں شامل ہے اور ملک بھر کی جامعات میں پڑھایا جاتا ہے۔اس معاملے نے تعلیمی آزادی اور نصاب سازی پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ یونیورسٹی کیمپس میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande