آٹھ سال بعد دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ سے ملا انصاف، یو اے پی اے کیس میں اے پی سی آر کی کوششوں سے دو ملزمان باعزت بری۔
نئی دہلی، 19،مارچ(ہ س)۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی کوششوں سےاس وقت ایک اہم اور تاریخی قانونی کامیابی ملی جب نئی دہلی کے اسپیشل سیل میں درج ایف آئی آر نمبر 106/2018 میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے جمشید ظہور پال اور پرویز رشید
آٹھ سال بعد دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ سے ملا انصاف، یو اے پی اے کیس میں اے پی سی آر کی کوششوں سے دو ملزمان باعزت بری۔


نئی دہلی، 19،مارچ(ہ س)۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی کوششوں سےاس وقت ایک اہم اور تاریخی قانونی کامیابی ملی جب نئی دہلی کے اسپیشل سیل میں درج ایف آئی آر نمبر 106/2018 میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے جمشید ظہور پال اور پرویز رشید لون کو تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ایک طویل اور صبر آزما قانونی جدوجہد کا نتیجہ تھا بلکہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت قائم مقدمات کے حوالے سے ایک اہم نظیر بھی قائم کرتا ہے۔

یہ مقدمہ سنہ 2018 میں اس وقت درج کیا گیا تھا جب دونوں افراد کو 7 ستمبر کو دہلی کے تاریخی علاقے لال قلعہ کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) اور آرمز ایکٹ کے تحت دہشت گردی سے روابط اور مجرمانہ سازش جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ گرفتاری کے بعد دونوں ہی افراد تقریباً آٹھ سال تک قید میں رہے، اس دوران مقدمے کی کارروائی غیر معمولی تاخیر کا شکار بھی ہوئی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق کیس میں فردِ جرم عائد کرنے میں بھی طویل وقت لگا اور اپریل 2022 میں جا کر چارج فریم کیے گئے۔ مزید برآں، 2024 تک دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں مسترد کیے جانے کے باعث ملزمان مسلسل حراست میں رہے، جس سے ان کی قید کا دورانیہ مزید طویل ہو گیا۔ تاہم، طویل سماعتوں اور شواہد کے باریک بینی سے جائزے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ استغاثہ اپنے دعووں کے حق میں کوئی ٹھوس، قابلِ اعتبار اور ناقابلِ تردید ثبوت پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، جس کے نتیجے میں دونوں ملزمان کو باعزت بری کر دیا گیا۔

اے پی سی آر کی قانونی ٹیم نے اس مقدمے کو مسلسل سنجیدگی، مہارت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھایا۔ تنظیم کے قومی سیکریٹری ندیم خان نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ ایک بڑی قانونی کامیابی ہے، لیکن اس کی انسانی قیمت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، “آج ان افراد سے دہشت گردی کا لیبل ہٹ گیا ہے، مگر ان کی زندگی کے آٹھ قیمتی سال ضائع ہو چکے ہیں۔ یہ کیس اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح بے بنیاد الزامات کسی کی زندگی کو مکمل طور پر تباہ کر سکتے ہیں۔”

اے پی سی آر کے جنرل سیکریٹری ملک معتصم نے بھی اس موقع پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں غیر معمولی قوانین جیسے یو اے پی اے کو ایسے انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے کہ بنیادی قانونی تقاضے پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہماری ٹیم نے ان افراد کا ساتھ اس وقت دیا جب معاشرہ انہیں مجرم سمجھ چکا تھا، اور آج کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انصاف کے تقاضے اور شواہد کی اہمیت کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔”

یہ فیصلہ نہ صرف متعلقہ افراد کے لیے انصاف کی فراہمی ہے بلکہ اس سے وسیع تر قانونی اور سماجی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ خاص طور پر یہ معاملہ اس بات کو واضح طور پر نمایاں کرتا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت تفتیشی عمل میں شفافیت، احتیاط اور جوابدہی کو یقینی بنانا کس قدر ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے مقدمات میں طویل حراست اور کمزور شواہد انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے لیے مؤثر اصلاحات اور مضبوط حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

مزید برآں، یہ فیصلہ عدالتوں کی اس بنیادی ذمہ داری کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ وہ حساس نوعیت کے مقدمات میں بھی غیر جانبداری اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں، چاہے ان پر کتنا ہی سیاسی یا سماجی دباو¿ کیوں نہ ہو۔ اس تناظر میں یہ فیصلہ مستقبل کے لیے ایک اہم عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اے پی سی آر کے مطابق، یہ کیس اس کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ان افراد کے ساتھ کھڑی رہے گی جو طویل عرصے تک اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اور جن کی آواز اکثر دب جاتی ہے۔ تنظیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئندہ بھی انصاف، آئینی حقوق اور قانونی شفافیت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande