
نئی دہلی، 19 مارچ (ہ س)۔ کڑکڑڈوما کورٹ کی شاہدرہ بار ایسوسی ایشن نے مشرقی دہلی کے غازی پور تھانہ علاقے میں وکیل کے ساتھ مارپیٹ اور لوٹ مار کے خلاف 20 مارچ کو عدالتی کام کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ شاہدرہ بار ایسوسی ایشن نے 20 مارچ کو عدالت کے احاطے میں پولیس اہلکاروں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
شاہدرہ بار ایسوسی ایشن کے صدر وی کے سنگھ اور سکریٹری نرویر ڈباس نے جمعرات کو کڑکڑڈوما کورٹ کے جوڈیشل افسران پر زور دیا کہ وہ 20 مارچ کے لیے درج مقدمات میں کوئی منفی حکم جاری نہ کریں۔ وکلاءکا الزام ہے کہ اگرچہ غازی پور تھانے کے علاقے میں وکیل کے ساتھ مارپیٹ اور لوٹ کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی، لیکن پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نے ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
شاہدرہ بار ایسوسی ایشن کا الزام ہے کہ اس نے غازی پور کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) سے متعدد بار رابطہ کرکے ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، لیکن ہر بار ایس ایچ او بہانے بناکر وقت لے لیتے ہیں اور تفتیش میں تاخیر کرتے ہیں، اس طرح ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کا ہی کام کر رہے ہیں۔ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایک وکیل کو پہلے میور وہار پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں گولی مار دی گئی تھی، لیکن کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ کئی تھانوں میں پولیس اہلکار وکلا کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں اور شکایات کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد