پارلیمنٹ سیکورٹی کی خلاف ورزی معاملے میں چار ملزمان کی جوڈیشیل ریمانڈ میں توسیع
نئی دہلی، 19 مارچ (ہ س)۔ پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے پارلیمنٹ سیکورٹی کی خلاف ورزی کے معاملے میں چار ملزمین کی عدالتی تحویل میں 24 مارچ تک توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے تمام چھ ملزمین کے خلاف الزامات طے کرنے اور ملزم للت جھا کو بری کرنے کی عرضی پر 24 مارچ کو
Patiala-House-Court-Parliament-Security-Breach-Acc


نئی دہلی، 19 مارچ (ہ س)۔ پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے پارلیمنٹ سیکورٹی کی خلاف ورزی کے معاملے میں چار ملزمین کی عدالتی تحویل میں 24 مارچ تک توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے تمام چھ ملزمین کے خلاف الزامات طے کرنے اور ملزم للت جھا کو بری کرنے کی عرضی پر 24 مارچ کو سماعت کرنے کا حکم دیا۔

اس معاملے میں، 13 مارچ کو دہلی ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ کی حفاظت کی خلاف ورزی کی ایک ملزم نیلم آزاد کی ضمانت کی شرائط میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے اپنے آبائی ضلع ہریانہ کے جیند میں رہنے کی اجازت دے دی تھی ۔ ہائی کورٹ نے ضمانت کی شرائط میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے اسے ہر ماہ کی 15 تاریخ کو تفتیشی افسر کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔

سماعت کے دوران کیس کے تمام ملزمان جمعرات کو عدالت میں پیش ہوئے۔ 2 جولائی 2025 کو دہلی ہائی کورٹ نے دو ملزمین نیلم آزاد اور مہیش کماوت کو ضمانت دے دی تھی۔ دہلی پولیس نے 15 جولائی 2024 کو اس کیس میں ایک ضمنی چارج شیٹ داخل کی تھی۔ دہلی پولیس نے ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 186، 353، 153، 452، 201، 34، اور 120بی اوریو اے پی اے کی دفعات 13، 16، 18کے تحت چارج شیٹ داخل کی تھی۔ دہلی پولیس نے اپنی پہلی چارج شیٹ 7 جون 2024 کو داخل کی تھی۔ جن ملزمین کے خلاف یو اے پی اے کی دفعات کے تحت چارج شیٹ دائر کی گئی ہے ان میں منورنجن ڈی، للت جھا، امول شندے، مہیش کماوت، ساگر شرما، اور نیلم آزاد شامل ہیں۔ دہلی پولیس کی طرف سے داخل کی گئی پہلی چارج شیٹ تقریباً 1000 صفحات پر مشتمل ہے۔

یہ واقعہ 13 دسمبر 2023 کو پیش آیا جب دو مشتبہ افراد پارلیمنٹ وزیٹر گیلری سے چیمبر میں کودے۔ تھوڑی دیر بعد، مشتبہ افراد میں سے ایک نے میز کے اوپر سے چلتے ہوئے اپنے جوتے سے کچھ نکالا، اور اچانک، پیلا دھواں اٹھنے لگا۔ اس واقعہ سے ایوان میں افراتفری مچ گئی۔ ہنگامہ آرائی اور دھوئیں کے درمیان کچھ ممبران پارلیمنٹ نے نوجوانوں کو پکڑ لیا اور اس کی پٹائی کردی ۔ کچھ دیر بعد پارلیمنٹ کے سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ پارلیمنٹ کے باہر دو افراد کو بھی پکڑا گیا جو نعرے لگا رہے تھے اور پیلا دھواں چھوڑ رہے تھے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande