
نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) سلنڈر کی بکنگ کے بعد انتظار کریں اور ڈسٹری بیوٹرز کے یہاںقطار میں لگنے سے گریز کریں۔ ایل پی جی کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے لیکن گھریلو صارفین کے لیے مناسب تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ دریں اثنا، 93 فیصد لوگ اب بکنگ کے لیے آن لائن طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ حکومت نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور گیس کا درست استعمال کریں۔ حالانکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں لیکن ہندوستان میں فی الحال ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے بدھ کو نیشنل میڈیا سینٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ خام تیل کی دستیابی کافی ہے اور ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ریٹیل اسٹورز پر پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کی کوئی اطلاع نہیں ہے، اور پیٹرول اور ڈیزل کا مناسب ذخیرہ دستیاب ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ تہران میں ہندوستانی سفارتخانے نے ہندوستانی شہریوں بالخصوص طلباءکے لیے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان زمینی سرحد کے پار سفر کے حوالے سے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سرحد پار سے آسانی سے نقل و حرکت کے لیے اپنی سہولت کے مطابق اس ایڈوائزری پر عمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے ساتھ مغربی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کی شدید مذمت کی جس کے نتیجے میں بے گناہ جانوں کا ضیاع ہوا اور شہریوں کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ دونوں رہنماو¿ں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ اور بلا رکاوٹ نیویگیشن کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور امن، سلامتی اور استحکام کی جلد بحالی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے اسپیشل سکریٹری راجیش کمار سنہا نے کہا کہ تمام ہندوستانی جہاز محفوظ ہیں اور کسی بھی واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 25 ہندوستانی شہریوں کو مختلف بندرگاہوں سے سائن آف کرنے کے بعد وطن واپس لایا گیا۔ 24x7 کنٹرول روم نے 125 کالز اور تقریباً 450 ای میلز کو ہینڈل کیا، جنہیں فوری طور پر حل کر دیا گیا۔ ایل پی جی کیریئر شیوالک اور نندا دیوی ضرورت کے مطابق کارگو اتار رہے ہیں۔ وشاکھاپٹنم پورٹ پر اضافی 2,500 مربع میٹر جگہ آپریشن کو آسان بنا رہی ہے۔ کسی بندرگاہ پر بھیڑ کی اطلاع نہیں ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی