
واشنگٹن،17مارچ(ہ س)۔منظرِ عام پر آنے والی آڈیو ریکارڈنگز سے انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای گذشتہ فروری کے آخر میں تہران میں اپنے والد کی رہائشی عمارت پر ہونے والے فضائی حملے میں چند منٹ کے فرق سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ اس حملے میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ حکام ہلاک ہو گئے تھے۔برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کو موصول ہونے والی ریکارڈنگ کے مطابق 28 فروری کو ہونے والے اس حملے کا اصل ہدف مجتبیٰ خامنہ ای ہی تھے، لیکن وہ میزائل گرنے سے چند منٹ قبل گھر کے باغیچے کی طرف نکل گئے تھے جس نے ان کی جان بچا لی۔اس ریکارڈنگ میں علی خامنہ ای کے دفتر میں شعبہ تشریفات کے سربراہ مظاہر حسینی 12 مارچ کو تہران میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران علماءاور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈروں سے خطاب کر رہے ہیں۔ اس ریکارڈنگ کی صداقت کی آزادانہ طور پر تصدیق کر لی گئی ہے۔حسینی نے وضاحت کی کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی ٹانگ پر معمولی چوٹ آئی، جبکہ ان کی اہلیہ اور بیٹا موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ ان کے داماد بھی میزائلوں کی زد میں آ کر جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم لیڈر کے ملٹری آفس کے سربراہ محمد شیرازی کا جسم دھماکے سے بری طرح چھلنی ہو گیا اور ان کے جسم کے صرف چند حصے ہی شناخت کے لیے باقی بچ سکے۔مجتبیٰ خامنہ ای دارالحکومت تہران میں اپنے والد کے ساتھ اسی کمپاونڈ میں مقیم تھے جہاں ایک مذہبی ہال بھی موجود تھا جہاں سابق سپریم لیڈر خطاب کیا کرتے تھے۔ اس کمپاونڈ میں خامنہ ای خاندان کے دیگر افراد کے گھر بھی واقع تھے۔ریکارڈنگ کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب علی خامنہ ای کمپاونڈ کے اندر اعلیٰ سکیورٹی حکام کے ساتھ اجلاس کر رہے تھے۔ حملے میں محمد پاکپور اور ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ سمیت کئی اہم شخصیات ہلاک ہوئیں۔حسینی نے اشارہ کیا کہ ان حملوں میں کمپاونڈ کے اندر بیک وقت کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ خامنہ ای کے پورے خاندان کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تین میزائل براہِ راست سپریم لیڈر کی رہائش گاہ پر گرے۔میزائلوں نے بالائی منزل پر واقع مجتبیٰ کے گھر کے علاوہ ان کے داماد مصباح الہدی باقری کنی اور ان کے بھائی مصطفیٰ خامنہ ای اور ان کی اہلیہ کے گھروں کو بھی نشانہ بنایا۔ان حملوں کے بعد سے علی خامنہ ای کا کوئی دوسرا بیٹا منظرِ عام پر نہیں آیا اور نہ ہی مجتبیٰ خامنہ ای کے بطور سپریم لیڈر انتخاب پر ان کی جانب سے تہنیتی یا بیعت کے عوامی بیانات سامنے آئے ہیں۔ خود مجتبیٰ بھی جنگ کے آغاز سے یا اپنے تقرر کے اٹھارہ دنوں کے دوران سامنے نہیں آئے، ان کا ظہور صرف ایک تحریری پیغام تک محدود رہا جو سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan