
ریاض،17مارچ(ہ س)۔
تہران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کے 17ویں روز خلیجی ممالک کے خلاف ایرانی فوجی کارروائیوں میں شدت آنے کے بعد سعودی سفارت کاری نے ایرانی حملوں کے حوالے سے مشترکہ خلیجی سیاسی ہم آہنگی کی رفتار تیز کر دی ہے۔ یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب خلیجی ممالک اب بھی تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مقابلے میں استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں، جو کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کی خارجہ پالیسی کا ایک راسخ اصول ہے۔
گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ریاض نے خلیجی دارالحکومتوں کے ساتھ رابطوں کا تبادلہ کیا تاکہ ان بزدلانہ ایرانی حملوں کے خلاف فوری مشاورت اور ہم آہنگی کو بڑھایا جا سکے جن کا نشانہ چھ ممالک بنے ہیں۔ ان ممالک نے اس سفاک ایرانی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کے حق کا اعادہ کیا ہے۔ ان رابطوں کے ذریعے ریاض یہ واضح پیغام دے رہا ہے کہ خلیج کی سکیورٹی ناقابل تقسیم ہے اور یہ استحکام پیدا کرنے کی مشترکہ خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔اسی تناظر میں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال اور سکیورٹی و استحکام پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماو¿ں نے اس بات پر زور دیا کہ خلیجی ممالک پر ایران کے مسلسل اور مجرمانہ حملے ایک خطرناک کشیدگی ہے جو خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔خلیجی مشاورت کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے اماراتی ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید سے فون پر بات کی تاکہ خلیجی عرب ممالک کے خلاف بلاجواز ایرانی حملوں کے سائے میں خطے کی موجودہ صورتحال اور علاقائی سکیورٹی و استحکام کو مستحکم کرنے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔اس سے قبل گذشتہ دنوں کے دوران شہزادہ فیصل بن فرحان نے رابطوں کا ایک وسیع سلسلہ شروع کیا جس میں انہوں نے اپنے کویتی ہم منصب شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے موجودہ حالات کے مضمرات پر بات کی۔انہوں نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن اور اپنے بحرینی ہم منصب ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی کے ساتھ ساتھ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے بھی فون پر گفتگو کی۔ ان مسلسل رابطوں کا مقصد علاقائی صورتحال کی تازہ ترین پیش رفت اور اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا، جبکہ خلیجی دفاعی نظام ،توانائی کی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے مسلسل ایرانی حملوں کو ناکام بنانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔اسی فریم ورک کے تحت علاقائی اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ریاض کے ساتھ گہرے رابطے کیے ہیں جو ایرانی جارحیت کے خلاف اب بھی تحمل کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ریاض نے بارہا اپنی سرزمین کے دفاع اور جارحیت کو روکنے کے اپنے مکمل حق پر زور دیا ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان کو اپنے بھارتی ہم منصب سوبراہمانیام جے شنکر، فرانسیسی وزیر خارجہ عمانویل میکروں کے نمائندے (جان نوئل بارو)، پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور جاپانی وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی کی جانب سے کالز موصول ہوئیں جن میں خطے کی صورتحال اور علاقائی و عالمی سکیورٹی و استحکام پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مبصرین کے مطابق ان کوششوں کے باوجود ایران خلیجی ممالک کے خلاف حملوں میں شدت لانے پر بضد ہے اور یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ ان حملوں کی زد میں توانائی کی تنصیبات، ہوٹل اور بنیادی ڈھانچہ آ رہا ہے، جبکہ خلیجی ممالک جنگ کی آگ میں کودنے سے بچنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران کا اصرار ہے کہ امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے بعض پڑوسی ممالک ایران پر حملوں کی اجازت دے رہے ہیں اور ایرانیوں کے قتل کی فعال طور پر حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ ان کا اشارہ خلیجی ممالک کی طرف ہے حالانکہ ان دارالحکومتوں کا جاری تنازع سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ اسے طول دینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ خلیجی ممالک کے بیانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں اور انہوں نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو تہران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جو ایرانی موقف میں تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔کشیدگی کو روکنے کی پالیسی کے تحت خلیجی ممالک نے ایران میں جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی رابطے تیز کر دیے تھے تاکہ خطے میں استحکام کے امکانات کو بڑھایا جا سکے اور خلیجی ممالک کو کسی بھی تنازع سے دور رکھا جا سکے۔ یہ خلیجی سفارت کاری کے اس فلسفے کو ظاہر کرتا ہے جو جنگوں پر امن کے انتخاب کو ترجیح دیتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan