
واشنگٹن،17مارچ(ہ س)۔اعلیٰ سطح کے دو امریکی حکام نے سی این این کو بتایا کہ ایرانی حکام نے صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور دیگر امریکی اہلکاروں سے حالیہ دنوں میں براہِ راست رابطہ کیا تاکہ سفارتی چینل دوبارہ فعال کیا جا سکے۔تاہم دونوں حکام نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیم کو بتایا کہ وہ اس وقت مذاکرات کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔
دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جن کا نام وائٹ ہاو¿س کے اہلکاروں نے وٹکوف سے رابطہ کرنے کی کوشش کرنے والے کے طور پر لیا تھا، سختی سے تردید کی کہ حال ہی میں کسی امریکی ایلچی سے کوئی رابطہ ہوا ہو۔عراقچی نے ایکس پلیٹ فارم پر لکھا کہ وٹکوف کے ساتھ کسی نئے رابطے کا دعویٰ صرف تیل کی مارکیٹ اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کا آخری رابطہ امریکی ایلچی سے فوجی حملے کے اعلان سے قبل ہوا تھا۔
امریکی ذرائع نے بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان براہِ راست رابطے کا چینل دوبارہ فعال ہوا، یہ پہلی بار ہے کہ جنگ کے آغاز کے دو ہفتے بعد دونوں جانب سے براہِ راست رابطہ ہوا۔ایک امریکی اہلکار جبکہ ایک اور ذریعہ جو مذاکرات سے واقف ہے، کے مطابق پیغامات کے مواد کی تفصیلات واضح نہیں ہیں، تاہم یہ رابطہ فوجی تصادم کے آغاز کے بعد پہلا براہِ راست رابطہ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ عراقچی نے وٹکوف کو ایسے پیغامات بھیجے جن کا محور جنگ ختم کرنے کی کوشش تھی۔ کچھ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ عراقچی نے امریکی ایلچی کے پیغامات کو نظر انداز کیا، لیکن امریکی اہلکار نے اس سے مختلف روایت پیش کی اور کہا کہ عراقچی نے رابطے کی کوشش کی، جبکہ امریکہ سرکاری طور پر ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہا۔ذرائع نے پیغامات کی تعداد یا ان کے مواد کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔اسی سلسلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکہ سے رابطہ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کہ کون سے ایرانی اہلکار رابطے میں تھے اور آیا وہ معاہدہ کرنے کے اہل ہیں یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا: وہ ایک معاہدہ چاہتے ہیں۔ وہ ہمارے لوگوں سے بات کر رہے ہیں… ہمارے پاس مذاکرات کرنے والا موجود ہے، لیکن ہمیں یہ بالکل معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں۔اگرچہ وہ تہران کی جانب سے معاہدے کی تیاری پر شکوک رکھتے ہیں، ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کے مخالف نہیں کیونکہ کبھی کبھار اس سے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں فی الحال فیصلہ کون کر رہا ہے یہ واضح نہیں، خاص طور پر کچھ اعلیٰ اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد۔انہوں نے نشاندہی کی کہ نیا اعلیٰ رہنما مجتبیٰ خامنہ ای عوامی طور پر نظر نہیں آئے اور ممکن ہے وہ ہلاک ہو گئے ہوں۔
ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے ایران کی جانب سے کسی امن معاہدے میں معاوضے کے مطالبے کو کم اہمیت دی، تاہم کہا کہ صدر ٹرمپ ایک ایسے معاہدے کے لیے کھلے ہیں جو ایران کو دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ شمولیت اور تیل کی برآمدات سے اقتصادی فائدہ دے۔اہلکار نے مزید کہا: صدر ہمیشہ کسی معاہدے کے لیے کھلے ہیں، مگر وہ کمزوری کی بنیاد پر مذاکرات نہیں کریں گے اور نہ ہی اس تنازعے کے اسباب پر سمجھوتہ کریں گے جو ابھرا ہے۔دوسری طرف ایرانی حکام نے حالیہ دنوں میں واضح کیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ جنگ بندی یا کسی عارضی معاہدے کے لیے مذاکرات نہیں کر رہے۔ان کا موقف ہے کہ عارضی وقفے سے امریکہ اور اسرائیل دوبارہ اپنی صف بندی کر کے حملہ کر سکتے ہیں، لہٰذا وہ دائم امن کے لیے ضمانت چاہتے ہیں۔پس منظر میں عباس عراقچی کو جنگ سے قبل ایران کے اہم فیصلہ ساز کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا، اور امریکہ نہیں سمجھتا کہ وہ اس وقت حتمی فیصلے کرنے کی مکمل طاقت رکھتے ہیں۔تاہم ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عراقچی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جو سابق مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ایران میں عملی طور پر قائد سمجھے جاتے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق عراقچی سب سے مو¿ثر رابطے کا ذریعہ ہیں کیونکہ ان کا امریکی حکام کے ساتھ سابقہ تعلق ہے اور وہ ابھی زندہ ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan