
نئی دہلی، 16 مارچ (ہ س)۔
مہنگائی کے بحران کی خبر نے عام آدمی کو جھٹکا دیا ہے۔ خوردہ افراط زر کے بعد فروری میں ہول سیل مہنگائی مسلسل چوتھے مہینے بڑھ کر 2.13 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کی وجہ غذائی اور غیر غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ تاہم اس عرصے کے دوران ماہانہ بنیادوں پر سبزیوں کی قیمتوں میں قدرے کمی آئی ہے۔
تجارت اور صنعت کی وزارت نے پیر کو اعداد و شمار جاری کیے جس میں کہا گیا کہ تھوک قیمت انڈیکس (ڈبلیو پی آئی ) پر مبنی ہول سیل مہنگائی فروری میں بڑھ کر 2.13 فیصد ہوگئی۔ فروری 2025 میں 2.45 فیصد کے مقابلے جنوری میں یہ 1.81 فیصد تھی۔ دسمبر میں تھوک مہنگائی کی شرح 0.83 فیصد تھی۔ وزارت کے مطابق فروری میں تھوک مہنگائی میں اضافہ بنیادی طور پر دیگر مینوفیکچرنگ، بیس میٹل مینوفیکچرنگ، نان فوڈ آئٹمز، فوڈ آئٹمز اور ٹیکسٹائل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔ سبزیوں کی مہنگائی جنوری میں 6.78 فیصد سے کم ہو کر فروری میں 4.73 فیصد رہ گئی۔ تاہم فروری میں دالوں، آلو، انڈے، گوشت اور مچھلی کی قیمتوں میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں اضافہ ہوا۔
وزارت کے مطابق، تیار شدہ مصنوعات کے لیے ڈبلیو پی آئی پر مبنی تھوک مہنگائی کی شرح فروری میں بڑھ کر 2.92 فیصد ہو گئی، جو پچھلے مہینے میں 2.86 فیصد تھی۔ نان فوڈ زمرہ میں مہنگائی جنوری میں 7.58 فیصد سے بڑھ کر فروری میں 8.80 فیصد ہوگئی۔ ایندھن اور توانائی کے زمرے میں مہنگائی میں کمی فروری میں بھی جاری رہی، یہ 3.78 فیصد ریکارڈ کی گئی جو جنوری میں 4.01 فیصد تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں خوردہ مہنگائی کی شرح جنوری کے 2.75فیصد سے بڑھ کر فروری میں 3.2فیصد ہو گئی تھی۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے کم افراط زر کی وجہ سے رواں مالی سال 2025-26 میں ریپو ریٹ میں 1.25 فیصد کی کمی کی۔ مرکزی بینک بنیادی طور پر ریپو ریٹ پر فیصلہ کرنے کے لیے خوردہ افراط زر کی نگرانی کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ