
واشنگٹن،16مارچ(ہ س)۔امریکی ویب سائٹ (Axios) نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے نہ کھولا گیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جزیرہ خرج میں ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے۔حکام نے اشارہ دیا کہ اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے زمین پر امریکی افواج کی موجودگی درکار ہوگی، جبکہ وائٹ ہاو¿س کے ایک اہل کار نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق بعض حکام کا ماننا ہے کہ جزیرہ خرج کے تیل پر کنٹرول ایران کے لیے ایک سخت معاشی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ اس کے تیل کی برآمد کا اہم ترین مرکز ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی بحریہ کے ماتحت کام کرنے والے ادارے 'یو کے ایم ٹی او' نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ حملوں، جہاز رانی میں مداخلت اور مسلسل عملیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں خطرہ اب بھی برقرار ہے، اگرچہ گذشتہ تین دنوں میں کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ ادارے نے واضح کیا کہ تین ہفتے قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے گرد و نواح میں کم از کم بیس بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔آبنائے ہرمز کی لمبائی تقریباً 212 کلومیٹر اور چوڑائی 33 سے 55 کلومیٹر کے درمیان ہے، جبکہ اس کی گہرائی 60 سے 100 میٹر تک ہے۔ یہ خصوصیات بڑے بحری جہازوں کے گزرنے کے لیے محفوظ راستے کو انتہائی تنگ بنا دیتی ہیں۔ یہ آبنائے خلیج عرب کو بحیرہ عمان اور بحر ہند سے جوڑتی ہے، جس کے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان کا جزیرہ نما مسندم اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔جہاز رانی کے اعتبار سے اس مقام سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے، ساتھ ہی مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، یوریا، ہیلیئم اور ایلومینیم کی بڑی مقدار بھی یہیں سے گزرتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور خود ایران (جن کی بندرگاہیں آبنائے سے باہر بھی ہیں) کے علاوہ قطر، کویت، عراق اور بحرین جیسے ممالک اپنی بیرونی تجارت کے لیے مکمل طور پر اسی آبنائے پر منحصر ہیں۔ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جس نے مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ گذشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ جو ممالک خلیجی تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس آبنائے کی حفاظت کریں جہاں سے عالمی توانائی کا 20 فی صد حصہ گزرتا ہے۔فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا میں ان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مداخلت کریں اور اپنے علاقوں کی حفاظت کریں، کیونکہ یہ ان کا علاقہ ہے... یہ وہ جگہ ہے جہاں سے وہ اپنی توانائی حاصل کرتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں سات ممالک سے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ان کے نام نہیں بتائے۔ البتہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک اس میں شریک ہوں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan