
لندن،16مارچ(ہ س)۔خلیجی ریاستوں اور برطانیہ نے علاقائی استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خلیج کی سلامتی عالمی اقتصادی استحکام کا ایک لازمی ستون ہے اور یہ برطانیہ کی سلامتی اور بین الاقوامی سلامتی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔انہوں نے ایران سے تمام حملے فوراً روکنے اور ہمسایہ ممالک کی جانب کسی بھی اشتعال انگیزی یا خطرات سے غیر مشروط طور پر باز رہنے کا مطالبہ کیا جس میں علاقائی پراکسی گروپوں کا استعمال شامل ہے۔شرقِ اوسط میں ہونے والی پیش رفت اور حالیہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کے لیے 12 مارچ کو ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ خلیجی بیان میں یہ تبصرے سامنے آئے۔ بیان میں ایران اور اس کے علاقائی پراکسیوں کی طرف سے حالیہ کشیدگی کو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک اور اردن کے خلاف صریح جارحیت قرار دیا گیا۔وزراءنے علاقائی فضائی حدود، سمندری راستوں اور جہاز رانی کی آزادی کے ساتھ ساتھ فراہمی کے تحفظ، ترسیل کے امور اور بحری پیشے سے وابستہ افراد کی حفاظت و سلامتی یقینی بنانے اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے مشاہدہ کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026) میں کسی بھی ایرانی اقدامات یا دھمکیوں کی مذمت کی گئی ہے جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری نقل و حمل کی بندش یا اس میں رکاوٹ پیدا کرنا یا آبنائے باب المندب میں سمندری سلامتی کے لیے خطرہ بننا ہو۔وزراءنے مشترکہ سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا جن کا مقصد ایک دیرپا حل تک پہنچنا ہو۔انہوں نے علاقائی سلامتی کے لیے برطانیہ کی اہم شراکت کی تعریف کی اور خطے میں دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے برطانیہ کے حالیہ فیصلے کو سراہا۔انہوں نے حملوں سے قبل جی سی سی ریاستوں کی وسیع سفارتی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی سرزمین کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ وزراءنے بحران حل کرنے کے لیے عمان کے تعمیری کردار کی تعریف کی اور علاقائی استحکام و سلامتی بحالی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزراءنے اقوامِ متحدہ منشور کی شق 51 کے تحت جی سی سی ریاستوں کے موروثی حقِ دفاع کو یاد کیا۔وزراءنے بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری کا بھی اعادہ کیا۔وزارتی کونسل نے جی سی سی اور اردن سے بین الاقوامی یکجہتی کی بے مثال سطح کی طرف بھی اشارہ کیا جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026) کے لیے اقوامِ متحدہ کے 136 رکن ممالک کی حمایت سے ظاہر ہوتی ہے۔وزراءنے جی سی سی سے یکجہتی اور خلیجی ریاستوں کی سلامتی، استحکام اور علاقائی سالمیت کے لیے مسلسل وابستگی پر برطانیہ کا شکریہ ادا کیا۔وزراءنے قرارداد 2817 (2026) کی منظوری کا خیرمقدم کیا جس میں جی سی سی ممالک اور اردن کی سرزمین کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے کی شدید مذمت کی گئی۔ قرارداد میں رہائشی علاقوں اور شہری انفراسٹرکچر بشمول تیل کی تنصیبات، سروس تنصیبات اور رہائشی محلوں پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی جن کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں اور شہری عمارات کو نقصان پہنچا۔وزراءنے جی سی سی اور برطانیہ کے درمیان تزویری شراکت داری کی اہمیت کا اعادہ کیا جس کا اعلان پہلی بار نومبر 2016 میں بحرین میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے مذاکرات میں فریقین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی طرف پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور یہ معاہدہ جلد از جلد مکمل ہو جانے کی امید ظاہر کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan