امریکہ نے اپنے تمام سرکاری عملے کو عمان چھوڑنے کا حکم دیا
استنبول، 15 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے درمیان سیکورٹی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے، امریکہ نے عمان میں تعینات اپنے تمام سرکاری ملازمین کو ان کے اہل خانہ سمیت ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اسکے علاوہ ایک الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں امریکی ش
امریکہ نے اپنے تمام سرکاری عملے کو عمان چھوڑنے کا حکم دیا


استنبول، 15 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے درمیان سیکورٹی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے، امریکہ نے عمان میں تعینات اپنے تمام سرکاری ملازمین کو ان کے اہل خانہ سمیت ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اسکے علاوہ ایک الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ عمان اور یمن کے درمیان سرحدی علاقے کا سفر کرنے سے گریز کریں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے، جس سے صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہو گئی ہے۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی، انادولو کے مطابق، امریکہ نے عمان میں تعینات اپنے غیر ہنگامی حکومتی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو سکیورٹی خدشات اور مغربی ایشیا میں ایران کے ساتھ جاری تنازعے کی وجہ سے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ جمعہ کو یہ ہدایت جاری کرتے ہوئے، امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ عمان-یمن سرحدی علاقے کے کسی بھی سفری منصوبے پر نظر ثانی کریں۔

امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دستیاب کمرشل پروازوں کا استعمال کرتے ہوئے جلد از جلد عمان چھوڑ دیں۔ مدد کے لیے شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر جائیں اور کرائسز انٹیک فارم مکمل کریں۔

وہ لوگ جو عمان میں رہنے کا انتخاب کرتے ہیں انہیں خوراک، پانی اور ادویات کی مناسب فراہمی اور محفوظ مقامات پر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے تازہ ترین اپ ڈیٹس فراہم کرنے کے لیے ایک واٹس ایپ چینل بھی شروع کیا ہے۔

امریکہ نے پورے عمان کے لیے لیول 3 کا انتباہ (سفر پر نظر ثانی) جاری کیا ہے، جب کہ یمن کی سرحد سے متصل علاقوں کے لیے لیول 4 الرٹ (سفر نہ کریں) جاری کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے قونصلر امور کے بیورو کے مطابق، یہ اقدام خطے میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام اور ممکنہ سکیورٹی خطرات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو ایران کے ساتھ فوجی دشمنی کے آغاز کے بعد سے، ڈرون اور میزائل حملوں کا خطرہ بدستور برقرار ہے، جس سے تجارتی ہوائی سفر اور علاقائی سلامتی دونوں پر اثر پڑ رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ حملوں کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان حملوں میں تقریباً 1300 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جن میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔

ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی مقامات پر جان و مال کا نقصان ہوا، اور شہری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande