فیصلے پر نظرثانی کریں اور فوری عراق چھوڑ دیں، امریکہ کی اپنی شہریوں سے پھر اپیل
بغداد،15مارچ(ہ س)۔بغداد میں امریکی سفارت خانے نے ایک اپ ڈیٹ شدہ سکیورٹی الرٹ میں زور دیا ہے کہ امریکی شہری فوری طور پر عراق چھوڑ دیں۔ یہ انتباہ سفارت خانے کی عمارت پر رات گئے ہونے والے میزائل حملے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ سفارت خانے نے ” ایکس “پر کہ
فیصلے پر نظرثانی کریں اور فوری عراق چھوڑ دیں، امریکہ کی اپنی شہریوں سے پھر اپیل


بغداد،15مارچ(ہ س)۔بغداد میں امریکی سفارت خانے نے ایک اپ ڈیٹ شدہ سکیورٹی الرٹ میں زور دیا ہے کہ امریکی شہری فوری طور پر عراق چھوڑ دیں۔ یہ انتباہ سفارت خانے کی عمارت پر رات گئے ہونے والے میزائل حملے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ سفارت خانے نے ” ایکس “پر کہا کہ عراق میں رہنے کا انتخاب کرنے والے امریکی شہریوں کو پرزور مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ انتباہ ایران نواز مسلح گروہوں کے بڑے خطرے کے پیش نظر جاری کیا گیا ہے۔

یہ بیان ہفتے کی علی الصبح عراقی دارالحکومت میں ہونے والے ایک زوردار دھماکے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ” العربیہ “ کے رپورٹر کے مطابق بغداد میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے کے بعد الرصافہ کا علاقہ دھماکے سے لرز اٹھا۔ ایک عراقی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ ایک ڈرون سفارت خانے سے ٹکرایا جس سے وہاں سے دھواں اٹھنے لگا اور سفارت خانے کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہو گیا۔ دیگر حکام نے بتایا کہ ایک میزائل سفارت خانے کے ہیلی پیڈ پر بھی لگا۔ ذرائع کے مطابق بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی سفارتی مرکز کو نشانہ بنانے والے ڈرون کو مار گرایا گیا۔ سفارت خانے کا یہ کمپلیکس، جو دنیا میں امریکہ کی سب سے بڑی سفارتی تنصیبات میں سے ایک ہے، پہلے بھی کئی بار ایران نواز ملیشیاو¿ں کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔یہ پیش رفت بغداد میں حزب اللہ بریگیڈز کے دو ارکان کی ہلاکت کے بعد ہوئی جن میں سے ایک اہم شخصیت تھی۔ سکیورٹی حکام کے مطابق بغداد کے مرکز میں حزب اللہ بریگیڈز کے ایک ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک اہم شخصیت جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔ دو گھنٹے بعد مشرقی بغداد کے علاقے نہروان میں الحشد الشعبی کے ایک رکن کی گاڑی کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں وہ بھی مارا گیا۔فروری سے جاری جنگ کے دوران ایران نواز دھڑوں کے کئی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ عراق برسوں سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش کا میدان رہا ہے اور اس کی حکومتیں دونوں طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہیں لیکن حالیہ جنگ نے انہیں ایک ایسے تنازع کے درمیان لا کھڑا کیا ہے جس میں ان کا کوئی فعال کردار نہیں ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande