موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ کے منصوبوں کا خاکہ پیش
حیدرآباد،15 مارچ (ہ س)۔ ریاستی حکومت نے موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا ہے جس پر تقریباً 6500 کروڑ سے 7000 کروڑ روپے تک لاگت آنے کا اندازہ ہے۔اس مرحلہ میں باپو گھاٹ کے مقام پر گاندھی سروور کی ترقی شامل ہے او
موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ کے منصوبوں کا خاکہ پیش


حیدرآباد،15 مارچ (ہ س)۔ ریاستی حکومت نے موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا ہے جس پر تقریباً 6500 کروڑ سے 7000 کروڑ روپے تک لاگت آنے کا اندازہ ہے۔اس مرحلہ میں باپو گھاٹ کے مقام پر گاندھی سروور کی ترقی شامل ہے اور اس میں دریا کے دو ایسے حصوں کو شامل کیا گیا ہے جو مجوزہ ذخیرہ آب پرآ کر ملتے ہیں۔ اس منصوبہ کے پہلے مرحلہ کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ میئن ہارٹ گروپ، آرآئی او ایس اور کشمین اینڈ ویک فیلڈ پر مشتمل کنسورشیم نے حال ہی میں پیش کی ہے۔ موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائرکٹر ای وی نرسمہا ریڈی نے وزیراعلی اے ریونت ریڈی کی موجودگی میں اس منصوبہ پرپاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کیا۔ پریزنٹیشن کے مطابق حکومت نے ایک خصوصی گریڈ واٹرمینجمنٹ نظام تجویز کیا ہے جس کے تحت موسیٰ بفر زون میں بڑے ایس ٹی پیز کے قریب عطاپور،عنبرپیٹ اور ناگول کے علاقوں میں تین بڑے بیلنسنگ واٹرریزروائر تعمیر کیے جائیں گے جہاں حیدرآباد کے مختلف سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس سے صاف کیا گیا پانی محفوظ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ آؤٹر رنگ روڈ کاریڈورکے ساتھ ایک رنگ بند تعمیرکرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے تاکہ صاف شدہ پانی کو مختلف مقاصد جیسے باغبانی، آبپاشی، تعمیراتی سرگرمیوں اور صنعتی استعمال کے لیے منتقل کیا جا سکے۔ مجوزہ ریور فرنٹ زون میں اپروچ روڈس‘ سائیکلنگ ٹریکس، کھلے مقامات اور پارکس بھی شامل ہوں گے۔ گاندھی سروور کے ماسٹر پلان میں اسٹیچو آف پیس، ہینڈلوم ٹریننگ سنٹر، تعلیم و علم کا مرکز، عوامی تفریحی مقامات، میڈیٹیشن و ویلنیس ولیج اور ایک قومی میوزیم کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande