
جموں، 15 مارچ (ہ س)۔
مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے نکسلیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرکے جمہوری دھارے میں شامل ہوں۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پر حالیہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات جمہوری ملک میں باعثِ تشویش اور ناقابل قبول ہیں۔
جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رام داس اٹھاولے نے کہا کہ 11 مارچ کو فاروق عبداللہ پر ہوا حملہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاروق عبداللہ ہمیشہ جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان مضبوط تعلقات کے حامی رہے ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن کسی کو کسی کی جان لینے کا حق نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے فاروق عبداللہ سے بات کی ہے اور ان کی سیکورٹی مزید مضبوط بنانے کی ہدایات دی ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت ہر قسم کے تشدد کے خلاف ہے اور ملک میں امن قائم رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے نکسلیوں سے اپیل کی کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر جمہوری نظام میں شامل ہوں، انتخابات میں حصہ لیں اور اپنی آواز پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں اٹھائیں۔ رام داس اٹھاولے نے کہا کہ آئین ہند کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ہمیشہ مساوات اور جمہوری جدوجہد کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے اصول پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں ترقیاتی کاموں میں تیزی آئی ہے اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کو مستقبل میں ریاستی درجہ بحال کرنے کے حوالے سے جلد کوئی فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ 2014 کے بعد حکومت نے جموں و کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی شاہراہوں کی توسیع، ریلوے منصوبوں کی پیش رفت اور کشمیر تک ریل رابطہ بڑھانے جیسے منصوبے خطے کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔ادھر رام داس اٹھاولے نے انڈین نیشنل کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ ملک میں روزگار کے مواقع بڑھانے اور معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی پر الزام لگایا کہ وہ اس معاہدے کے بارے میں غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔اس وقت ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کا تقریباً دو ماہ کا ذخیرہ موجود ہے، اس لیے فوری طور پر کسی قلت کا خدشہ نہیں ہے۔ تاہم مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور سامان کی آمد و رفت کسی حد تک متاثر ہوئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر