
مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کے زیر اہتمام گوالیار میں سلسلہ اور تلاشِ جوہر کے تحت ادبی و شعری نشست منعقد
بھوپال، 15 مارچ (ہ س)۔
مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، سنسکرتی پریشد، محکمۂ ثقافت کے زیر اہتمام ضلع ادب گوشہ، گوالیار کے ذریعے ’’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘‘ کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد 15 مارچ 2026 کو آئی کام انٹرنیشنل سینٹر آف میڈیا، پڑاو، گوالیار میں ضلع کوآرڈینیٹر ڈاکٹر مکتا سکروار کے تعاون سے کیا گیا۔
گوالیار میں منعقدہ ’’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘‘ کے لیے مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ اردو ادب کی ثروت مند روایت کو آگے بڑھانے کے لیے سینئر اور نوجوان تخلیق کاروں کو ایک ساتھ اسٹیج فراہم کرنا ضروری ہے۔ ’’سلسلہ‘‘ کے تحت جہاں سینئر اور جونیئر شاعروں و ادیبوں کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کا موقع ملتا ہے، وہیں ’’تلاشِ جوہر‘‘ کے توسط سے فی البدیہہ مقابلے کے ذریعے نئے تخلیق کاروں کو اپنی تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے اسٹیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ گوالیار میں منعقد اس طرح کے پروگرام اردو ادب کی نئی نسل کی حوصلہ افزائی کرنے اور تخلیقی ماحول کو ثروت مند بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے، ایسا ہمیں یقین ہے۔
گوالیار ضلع کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر مکتا سکروار نے بتایا کہ ادبی و شعری نشست دو اجلاس پر مبنی تھی۔ پہلے اجلاس میں دوپہر 1.00 بجے تلاشِ جوہر منعقد ہوا جس میں ضلع کے نئے تخلیق کاروں نے فی البدیہہ مقابلے میں حصہ لیا۔ حکم صاحبان کے طور پر گوالیار کے استاد شعرا قاسم رسا اور رام اودھ وشوکرما موجود تھے جنہوں نے نئے تخلیق کاروں کو شعر کہنے کے لیے دو طرحی مصرعے دیے۔ دیے گئے مصرعوں پر نئے تخلیق کاروں کے ذریعے کہی گئی غزلوں اور ان کی پیشکش کی بنیاد پر آکاش شرما نے پہلا، جتیندر راج نے دوسرا، اور ہیمنت وشال نے تیسرا مقام حاصل کیا۔ پہلا، دوسرا، اور تیسرا مقام حاصل کرنے والے تینوں فاتحین کو اردو اکیڈمی کی طرف سے بالترتیب 3000، 2000، اور 1000 روپے کی انعامی رقم اور سرٹیفکیٹ دیے جائیں گے۔
دوسرے اجلاس میں دوپہر 2.00 بجے سلسلہ کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد ہوا جس کی صدارت استاد شاعر قاسم رسا نے کی۔ وہیں مہمانانِ ذی وقار کے طور پر رام اودھ وشوکرما اور عامر فاروقی اسٹیج پر جلوہ افروز رہے۔ اس موقع پر رام اودھ وشوکرما نے غزل کے فن پر گفتگو کی۔
شعری نشست میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام اور اشعار درج ذیل ہیں:
ہچکیوں میں کہہ گیا دیوانِ غم،
اب تمہیں فرصت ہی فرصت ہو گئی
قاسم رسا
میں جی رہا ہوں ابھی تک اسی گمان کے ساتھ
اٹوٹ رشتہ ہے میرا بھی آسمان کے ساتھ
رام اودھ وشوکرما
سنبھالا تھا نمی نے جس کو برسوں
وہ مٹی اب بکھرتی جا رہی ہے
عامر فاروقی
حال کیا پوچھتے ہو عشق کے دیوانوں کا
آگ ہر سانس میں، آنکھوں میں نمی ہوتی ہے
کادمبری آریہ
ماتھے پہ شکن نہ آئی، نہ چہرے پہ ملال آیا
جب ان کے اشارے پہ، مٹنے کا سوال آیا
وجے سیٹھی اکیلا
دن گزر جائے تو پھر شام بہت مشکل ہے
بھول پاؤں میں تیرا نام بہت مشکل ہے
رمیش ویوگی
دل کی بستی میں شور جاری ہے
اک قیامت ہے اور جاری ہے
ڈاکٹر قمر الزماں صدیقی
یہ مانا دنیا کے سارے سہارے چھوٹ جاتے ہیں
گلہ غیروں سے کیا ہم سے ہمارے چھوٹ جاتے ہیں
ڈاکٹر منوج چوپڑا
خوف کانٹوں کا بھی نہیں تھا جنہیں
ہو گئے وہ شکار پھولوں کے
منیش کبیر
دینا ہے محبت کی خبر، ڈھونڈ رہے ہیں
آ جاؤ، تمہیں اہلِ نظر ڈھونڈ رہے ہیں
سنجے مرزا
جگنووں کی عدالت لگی رات میں
قید سورج ہوا پھر حوالات میں
کملیش کمل
ان کے علاوہ امت چتون، شیخ معین، مدھولیکا سنگھ، دھرم پال مدھوکر، آشیش تھاپک، گیانیندر کشواہ اور آرتی شریواستو نے بھی کلام پیش کیا۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض مکتا سکروار نے بحسن خوبی انجام دیے۔ پروگرام کے آخر میں انھوں نے تمام مہمانوں، تخلیق کاروں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن