کسی شخص کو دہشت گردوں کا گراؤنڈورکر کہنا ہتک عزت کے زمرے میں آتا ہے:عدالت
جموں، 15 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی شخص کو دہشت گردوں کا اوور گراؤنڈ ورکر (او جی ڈبلیو) کہنا یا اسے دہشت گردوں سے وابستہ قرار دینا معاشرے میں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور بادی الن
Jk Highcurt


جموں، 15 مارچ (ہ س)۔

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی شخص کو دہشت گردوں کا اوور گراؤنڈ ورکر (او جی ڈبلیو) کہنا یا اسے دہشت گردوں سے وابستہ قرار دینا معاشرے میں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور بادی النظر میں ہتکِ عزت کے زمرے میں آتا ہے۔یہ رائے جسٹس سنجے دھر نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ظاہر کی۔ عدالت نے کہا کہ کسی شخص کے بارے میں یہ تاثر دینا کہ اس کا دہشت گرد سرگرمیوں سے تعلق ہے یا وہ دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے، عوام اور جاننے والوں کی نظر میں اس کی عزت و وقار کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔

ہائی کورٹ نے مزید واضح کیا کہ ہتکِ عزت کے جرم کے لیے صرف بدنیتی یا کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا براہِ راست ارادہ ہونا ضروری نہیں۔ اگر کوئی شخص یہ جانتا ہو یا اسے یہ یقین ہو کہ اس کا بیان کسی دوسرے شخص کی شہرت کو نقصان پہنچا سکتا ہے تو ایسی صورت میں بھی ہتکِ عزت کا معاملہ بن سکتا ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ پریس کو اظہارِ رائے اور آزادیٔ صحافت کا بنیادی حق حاصل ہے، تاہم یہ حق مکمل طور پر غیر محدود نہیں ہے اور اس پر معقول پابندیاں عائد ہوتی ہیں، جن میں کسی فرد کی شہرت اور عزت کا تحفظ بھی شامل ہے۔اخباری اشاعت کے معاملے میں عدالت نے مشاہدہ کیا کہ پریس اینڈ رجسٹریشن آف بکس ایکٹ 1867 کے تحت کسی اخبار کے مدیر کو شائع ہونے والے مواد کے انتخاب کا ذمہ دار تصور کیا جاتا ہے، اس لیے ہتکِ عزت کے مبینہ مواد کے لیے مدیر کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف اخبار کا مالک ہونے کی بنیاد پر اس کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی، جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ متنازع مواد کی اشاعت میں براہِ راست ملوث تھا۔

یہ مقدمہ ایک فوجداری ہتکِ عزت کی شکایت سے متعلق تھا، جو ایک خبر کی اشاعت پر دائر کی گئی تھی جس میں مبینہ طور پر ایک شخص کو دہشت گردوں سے وابستہ دکھایا گیا تھا۔ ملزمان نے اس شکایت اور ٹرائل کورٹ میں جاری کارروائی کو منسوخ کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہائی کورٹ نے درخواست کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے اخبار کے مالک کے خلاف کارروائی کو ختم کر دیا، کیونکہ اس کے خلاف کوئی مخصوص الزام موجود نہیں تھا، تاہم مدیر کے خلاف ہتکِ عزت کی کارروائی ٹرائل کورٹ میں جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande