
واشنگٹن،14مارچ(ہ س)۔امریکی محکمہ دفاع نے خلیج ہرمز میں ایرانی حملوں میں اضافے کے پیش نظر اضافی میرینز اور جنگی جہاز بھیج کر مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے۔تین امریکی حکام نے بتایا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کی اس درخواست کو منظور کر لیا ہے جس میں ایک ایمفیبیئس ریڈینیس گروپ کے حصے کو میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے ساتھ تعینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ فورس عام طور پر کئی جنگی جہازوں اور لگ بھگ 5 ہزار میرینز پر مشتمل ہوتی ہے۔
دو حکام نے واضح کیا کہ جاپان میں مقیم بحری جہاز ” یو ایس ایس ٹرپولی “میرینز کے ہمراہ اس وقت مشرق وسطیٰ کی جانب رواں دواں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی سے متعلق آپریشنز میں حصہ لینے کے لیے میرینز پہلے ہی خطے میں موجود ہیں۔” وال سٹریٹ جرنل “ کے مطابق یہ فوجی کمک ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب خلیج ہرمز میں ایرانی حملوں نے اس تزویراتی بحری گزرگاہ میں جہاز رانی کو متاثر کیا ہے جس سے عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں میں خلل پڑا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے فوجی و سیاسی چیلنجز پیدا ہوئے ہیں۔اسی تناظر میں دو امریکی حکام نے بتایا کہ 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ ، جو 3 بحری جہازوں پر مشتمل ہے اور جس میں تقریباً 2200 اہلکار شامل ہیں، کو مشرق وسطیٰ جانے کے احکامات ملے ہیں۔ یہ یونٹ مستقل طور پر جاپان میں تعینات رہتا ہے اور عام طور پر ہند-بحرالکاہل کمانڈ کے تحت کام کرتا ہے۔حکام نے مزید بتایا کہ اس فورس کی تعیناتی کا مطلب لازمی طور پر ایران کے اندر زمینی فوج کے طور پر استعمال ہونا نہیں ہے بلکہ یہ فوجی کمانڈروں کو مختلف صلاحیتیں فراہم کرتی ہے جن میں زمینی، بحری اور فضائی آپریشنز شامل ہیں جن سے ضرورت پڑنے پر مدد لی جا سکتی ہے۔ اے بی سی نیوز کے مطابق اس یونٹ میں ایف-35 لڑاکا طیاروں اور ایم وی-22 سپرے طیاروں کا سکواڈرن بھی شامل ہے۔یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے سائے میں ہوئی ہے جہاں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے رہنماو¿ں نے اپنے تازہ بیانات میں مزید چیلنجز اور لڑائی جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری اس جنگ نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے اور مالیاتی منڈیوں کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ جنگ کے تیسرے ہفتے کے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایرانی فوجی ٹھکانوں بشمول میزائل تنصیبات اور فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں تاکہ تہران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے جبکہ ایران نے جواباً میزائل داغے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan