ایران کے یورینیم پر امریکی تشویش، ٹرمپ نے روسی پیشکش ٹھکرا دی
واشنگٹن،14مارچ(ہ س)۔ایک امریکی عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن کو ایرانی یورینیم کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اشارہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ماسکو منتقل کرنے کی روسی تجویز مسترد کر دی ہے۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ axios نے
ایران کے یورینیم پر امریکی تشویش، ٹرمپ نے روسی پیشکش ٹھکرا دی


واشنگٹن،14مارچ(ہ س)۔ایک امریکی عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن کو ایرانی یورینیم کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اشارہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ماسکو منتقل کرنے کی روسی تجویز مسترد کر دی ہے۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ axios نے بتائی۔مذکورہ عہدے دار نے جمعے کے روز بتایا کہ روسی صدر ولادی میر پوتین نے اس ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک ٹیلی فون کال کے دوران جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے حصے کے طور پر ایران کا افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی تجویز پیش کی تھی، تاہم ٹرمپ نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔انہوں نے مزید کہا یہ پہلی بار نہیں ہے کہ یہ پیشکش سامنے آئی ہو.. اور اسے قبول نہیں کیا گیا، انہوں نے وضاحت کی کہ امریکہ کو یورینیم کو محفوظ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ60 فی صد تک افزودہ تقریباً 450 کلوگرام ایرانی یورینیم کو محفوظ بنانے کا معاملہ ... جو چند ہفتوں میں ہتھیار بنانے کے قابل درجے میں تبدیل ہو سکتا ہے اور 10 سے زائد ایٹمی بم بنانے کے لیے کافی ہے ... جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے اہم اہداف میں سے ایک ہے۔پوتین کی پیشکش زمین پر امریکی یا اسرائیلی افواج کی موجودگی کے بغیر ایرانی ایٹمی ذخیرے کو منتقل کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ روس پہلے ہی ایک ایٹمی قوت ہے اور وہ 2015 کے ایٹمی معاہدے کے تحت کم افزودہ ایرانی یورینیم کو اپنے پاس ذخیرہ کر چکا ہے۔ یہ اسے ان چند ممالک میں شامل کرتا ہے جو تکنیکی طور پر اس مواد کو وصول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔روس نے گذشتہ مئی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کے دوران بھی اسی طرح کی تجاویز پیش کی تھیں۔ موجودہ جنگ کے آغاز سے چند ہفتے قبل بھی ایسی تجاویز سامنے آئی تھیں۔امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی ایٹمی ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے جنگ کے اگلے مرحلے میں ایران میں خصوصی دستے (اسپیشل فورسز) بھیجنے کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ axios نے بتائی۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ کے پاس ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم پر قابو پانے کے لیے کئی اختیارات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک راستہ یہ ہے کہ ایران رضاکارانہ طور پر یہ ذخیرہ حوالے کر دے، جس کا واشنگٹن خیر مقدم کرے گا۔

دوسری جانب ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کو محفوظ بنانا اس وقت ترجیح نہیں ہے۔ انہوں نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہم اس وقت اس پر توجہ مرکوز نہیں کر رہے، لیکن شاید کسی وقت کریں۔یاد رہے کہ ایران نے جنگ سے قبل ہونے والے مذاکرات کے آخری دور میں یورینیم کی منتقلی کا خیال مسترد کر دیا تھا اور اس کے بجائے تجویز دی تھی کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں اپنی تنصیبات کے اندر ہی اس کی افزودگی کی سطح کو کم کر دیا جائے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایران اب اس تجویز کو قبول کرے گا یا نہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande