
تہران،14مارچ(ہ س)۔سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے نے ان ایرانی شہروں کی نشان دہی کی ہے جو 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے ساتھ چھڑنے والی جنگ کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔امریکی ریاست اوریگون کی یونیورسٹی کے محققین نے کوپرنیکس سینٹینل آبزرویٹری کے ذریعے سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا۔ اس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تہران، بندر عباس، شیراز اور اصفہان فضائی حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ خاص طور پر ملک کے سب سے بڑے شہر اور دار الحکومت تہران اور وسطی جنوبی ایران میں واقع شہر شیراز میں۔تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ ساحلی شہر بندر عباس میں 40 سے زائد تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جہاں ایران کا ایک اہم بحری اڈا موجود ہے۔ یہ شہر آبنائے ہرمز پر اپنے تزویراتی محلِ وقوع کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے اور ایرانی حملوں کے خطرات کے نتیجے میں اس وقت تیل بردار جہازوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔یونیورسٹی کی جیو اسپیٹیل ریسرچ لیب Conflict Ecology کے محقق جامون فان دن ہوک، جنہوں نے کوری شیر کے ساتھ مل کر یہ تجزیہ کیا، وہ کہتے ہیں کہ اس وقت بظاہر جنگ کا کوئی واضح محاذ نظر نہیں آتا، کیونکہ ایران کے مختلف گوشوں اور علاقوں میں بہت ہی مختصر وقت کے دوران بیک وقت نقصانات ہو رہے ہیں۔محققین نے 28 فروری کو شروع ہونے والے حملوں سے قبل کے سینٹینل 1 سیٹلائٹ ڈیٹا کا موازنہ 2 سے 10 مارچ کے درمیان جمع کیے گئے ڈیٹا سے کیا۔ سینٹینل 1 ریڈار ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے زمین پر ہونے والی تبدیلیوں بشمول عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان یا تباہی کی نگرانی کرتا ہے، تاہم یہ ٹیکنالوجی زرعی یا نباتات سے ڈھکے ہوئے علاقوں میں نقصان کا پتہ نہیں لگا سکتی۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گذشتہ روز جمعہ کو پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ تنازع کے آغاز سے اب تک امریکی اور اسرائیلی ضربوں نے 15 ہزار سے زائد ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت ایران کی ہائی ریزولوشن بصری تصاویر دستیاب نہیں ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی معروف امریکی کمپنیوں نے اپنے ڈیٹا تک رسائی محدود کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ایران میں انٹرنیٹ کی بڑے پیمانے پر بندش نے بھی تباہی کے حقیقی پیمانے کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیا ہے۔دوسری جانب امریکی پہلو سے متعلق وال اسٹریٹ جنرل نے ایک با خبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف آپریشن Epic Fury کے آغاز سے اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور 200 زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والے 200 فوجیوں میں سے 170 دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے پہلے بتایا تھا کہ خطے میں ایرانی حملوں میں 7 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ مغربی عراق میں گر کر تباہ ہونے والے امریکی فوجی فیول ٹینکر طیارے KC-135 کے عملے کے تمام 6 ارکان بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan